ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 285
چینینم آرس 285 پیشنم آرس میں دائیں پہلو میں زیادہ کمزوری ہوتی ہے مثلا گردن کا دایاں حصہ اور دایاں بازو متاثر ہوتے ہیں۔کمزوری بڑھے تو تشنج ہونے لگتا ہے۔رات کے وقت سر میں درد ہوتا ہے۔نزلے سے بھی سر درد شروع ہو جاتا ہے۔عموماً جب نزلہ دب جائے تو درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔سر میں ہتھوڑے پڑنے کا احساس ہوتا ہے۔یہ احساس عمومأ خون کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔یہ علامت نیٹرم میور میں بھی نمایاں ہوتی ہے کیونکہ یہ بھی خون کی کمی کی بہترین دوا ہے۔اس میں خون میں پانی کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے۔چینینم آرس میں خون کے سرخ ذرے کم ہونے کی وجہ سے خون کی کمی ہوتی ہے۔اس لئے اس کی ور میں پھولی ہوئی اور کھوکھلی ہوتی ہیں۔سر کے باہر بھی عضلات میں درد ہونے لگتا ہے ،سردی میں تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔پینینم آرس میں آنکھوں کی علامتیں بھی پائی جاتی ہیں۔روشنی سے زود سمی اور گرم آنسو بہتے ہیں۔نیٹرم میور میں بھی یہ علامت پائی جاتی ہے۔جہاں تک آنکھوں کا تعلق ہے چینینم آریس میں زخم ایک آنکھ میں نہیں بلکہ دونوں آنکھوں میں پائے جاتے ہیں۔السر اور ایگزیما کی تکلیفیں بیک وقت دونوں طرف ہونے کارجحان چینینم آرس کے علاوہ آرنیکا میں بھی ملتا ہے۔آرنیکا میں اگر ایک آنکھ میں خارش ہوتو دوسری میں بھی ہوگی۔بیک وقت دونوں طرف تکلیف ہوتی ہے۔چینینم آرس میں بھی یہی علامت ہے لیکن آنکھوں کے سامنے تارے اور چنگارے بائیں آنکھ میں دائیں آنکھ کے مقابل پر زیادہ نظر آتے ہیں۔بائیں آنکھ سے پانی بہتا ہے اور درد کا احساس، کانوں میں شور اور آوازیں سنائی دیتی ہیں۔قوت سامعہ غیر معمولی طور پر تیز ہو جاتی ہے یا مریض بہرہ ہونے لگتا ہے۔یہ متضاد علامات چھینینم آرس کا خاصہ ہے۔ناک سے خون آمیز رطوبت اور بد بودار پیپ نکلتی ہے۔ناک اندر سے گلنے لگتا ہے۔ہونٹوں اور ناک کے کنارے چھلنے لگتے ہیں۔چہرہ کا رنگ پیلا اور مٹیالا سا ہو جاتا ہے اور چہرہ خمیر کی طرح پھولا ہوا دکھائی دیتا ہے۔نیز ایک عجیب قسم کی چمک چہرہ کے ایک حصہ پر نمایاں ہو جاتی ہے۔جو خون کی کمی کی مزید نشاندہی کرتی ہے۔منہ کی اندرونی جھلیوں