ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 284

چینینم آرس 284 ہلکا احساس رہتا ہے۔مزمن اسہال پانی کی طرح پہلے اور متعفن ہوتے ہیں۔جسم میں جگہ جگہ ور میں پائی جاتی ہیں۔حرکت سے سخت نفرت ہوتی ہے اور مریض بے حس و حرکت پڑا رہنا پسند کرتا ہے۔پینینم آرس میں عضلاتی دھڑکن بھی پائی جاتی ہے جو سارے جسم میں انگلیوں کے کناروں تک محسوس ہوتی ہے۔نبض کمزور اور باریک دھاگے کی طرح بہت ہلکی چلتی ہے۔پیشنم آرس میں لیکیس کی طرح سونے کے بعد تکلیفیں بڑھتی ہیں۔جسم میں بے چینی رہتی ہے جو شام کو بڑھ جاتی ہے۔بعض مریضوں کو یہ احساس رہتا ہے کہ وہ ایسے گناہ گار ہیں جو بخشے نہیں جائیں گے۔چھینینم آرس میں مریض بالکل معمولی چیزوں پر اپنے آپ کو بہت گناہ گار سمجھنے لگتا ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہم میں مبتلا ہوکر خوف اور تو ہمات کا شکار ہو جاتا ہے۔ایسے مریض کو بعض دفعہ عجیب وغریب نظارے بھی نظر آنے لگتے ہیں۔چینینم آرس کے مریض کو بخار ہو تو وہ گھبرا کر بستر سے باہر نکلتا ہے۔ہر وقت بے چین رہتا ہے۔آہستہ آہستہ زندگی سے مایوسی اور نفرت ہونے لگتی ہے،شور نا قابل برداشت ہو جاتا ہے اور یادداشت کمزور پڑ جاتی ہے۔ایسے مریض جنہوں نے اپنی زندگی او باشی اور عیاشی میں گزاری ہوان میں چینینم آرس کی علامات کا پیدا ہونا زیادہ قرین قیاس ہے۔چینینم آرس میں اعصابی کمزوری اور خون کی کمی سے سوتے ہوئے جھٹکا لگتا ہے۔یہ علامت کئی دواؤں میں بار بار زیر بحث آ چکی ہے۔چینینم آرس میں بھی یہ علامت پائی جاتی ہے کہ اس میں اعصابی کمزوری اور خون کی کمی کی وجہ سے جھٹکا لگتا ہے۔کبھی درد کے احساس سے آنکھ کھل جاتی ہے اور در دبجلی کے کوندے کی طرح جسم میں پھیل جاتا ہے۔چھینینم آرس میں جو تکلیف خون کا دباؤ کم ہونے سے ہوتی ہے وہی تکلیف آرنیکا، بیلا ڈونا وغیرہ میں خون کا دباؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے ہو جاتی ہے۔بازو، ٹانگیں اور ہاتھ پاؤں سخت ٹھنڈے ہو جاتے ہیں لیکن پھر خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔چینینم آرس کی یہ خاص علامت ہے۔