ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 264
کاسٹیکم 264 حساس ہوتا ہے ، شور اور ذرا سی لمس بھی برداشت نہیں کرسکتا، سردی اور گرمی دونوں ہی موافق نہیں۔عموماً اکیلے اکیلے عضلات پر تشیخ کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔جوڑوں کے درد میں گرمی پہنچانے سے آرام آتا ہے، سوائے انگلیوں کے جہاں گرمی کی بجائے سردی سے آرام ملتا ہے۔اس کی کھانسی میں بھی یہی مزاج ہے کہ ٹھنڈے پانی سے آرام آتا ہے۔پیس اگر مریض کا مزاج کا سٹیکم کا ہو تو اس کو عموما گرمی سے تکلیف پہنچتی ہے سوائے گلے اور ہاتھوں کے۔کاسٹیکم بے چینی پیدا کرنے والی دوا ہے۔کاسٹیکم کا مرگی کے آغاز سے بھی تعلق ہے۔سر کی ساخت کی خرابیوں میں اور خطرناک حادثات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی مرگی کسی علاج سے ٹھیک نہیں ہوا کرتی بلکہ اس کا علاج اگر ممکن ہے تو سرجری سے ممکن ہے۔اس ضمن میں امریکہ کے ایک ڈاکٹر کو دائی مرگی کے 34 کامیاب اپریشن کرنے پر نوبل انعام بھی ملا تھا۔کاسٹیکم کی ایک علامت یہ ہے کہ اگر جلدی امراض کو دبا دیا جائے تو دماغی امراض پیدا ہو جاتی ہیں۔سر درد جو فالج پر منتج ہو اس کی بھی کاسٹیکم دوا ہوسکتی ہے۔بعض قسم کی سر درد سے مریض وقتی طور پر اندھا ہو جاتا ہے۔اگر ایسی سردرد سے بینائی جاتی رہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد واپس آ جائے اور کوئی فالجی علامت ظاہر نہ ہو تو کاسٹیکم کی بجائے جلسیمیم زیادہ مؤثر ہوگی۔اگر فالجی علامتیں ظاہر ہوں تو پھر کاسٹیکم دوا ہے۔آنکھوں کے چھپر کا تدریجی فالج بھی کاسٹیکم کیکا مطالبہ کرتا ہے۔یہ مرض چونکه ست رفتا ر ہے اس لئے شفا کا عمل بھی وقت چاہتا ہے۔مستقل مزاجی سے علاج جاری رکھنا چاہئے۔کبھی کبھی سلفر کے ساتھ ادلنا بدلنا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔بعض اوقات آنکھوں میں مختلف قسم کے دھبے نظر آتے ہیں۔سبز رنگ کے دھبے کاسٹیکم کی خصوصی علامت ہیں۔کاسٹیکم میں سے بھی بہت ہوتے ہیں۔اگر باریک اور نرم نرم ہوں تو تھو جا اور میڈ ورائینم دونوں مفید ہیں۔لیکن اگر بہت بڑے بڑے اور بکثرت مسے ہوں تو کاسٹیکم اور نائٹریکم ایسڈ زیادہ مفید ہیں۔ان دونوں کے مسے الگ الگ