ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xxvi of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xxvi

دیباچه 14 جائیں ان کے بارہ میں مذکورہ بالا طریق اختیار کرنا لازم ہے۔عام طور پر ہومیو پیتھ اس فلسفے کو قبول کرتے ہیں کہ ہو میو پیتھی کی ایک دوائی کو دوسری میں نہ ملایا جائے۔میں بھی شروع شروع میں ایسا ہی کرتا رہا۔مگر پھر مجھے یہ طریق بدلنا پڑا۔اس کی وجہ میری یہ مشکل تھی کہ ایک دوا کی پہچان کے لئے جتنا وقت چاہیے۔مجھے وہ وقت اکثر میسر نہیں آتا تھا۔ربوہ کے قیام کے دوران میرا اصل کام جو جماعت کی طرف سے سپر در ہایا وقف جدید کا کام تھا یا انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ وغیرہ کا۔اس طرح انجمن اور تحریک جدید کمیٹیوں میں بیٹھنے کے لئے بھی وقت نکالنا پڑتا تھا اور ان سب مصروفیات کے علاوہ میں وقف جدید کیدفتر میں ہی شام کو ہومیو پیتھک ڈسپنسری بھی کھولتا تھا جہاں بعض دفعہ سوسو مریض آجایا کرتے تھے یہ ڈسپنسری ابتدا میں گھر پر چلتی تھی جس کے لئے زیادہ تر مغرب اور عشاء کے درمیان وقت میسر آتا تھا۔یہ مصروفیات مجھے مجبور کرتی تھیں کہ اپنے علم اور تجربات کی روشنی میں ایسے مرکبات بنالوں جو اکثر مریضوں کیلئے کارآمد ثابت ہوں۔جن کو فائدہ نہ ہو انہیں متبادل مرکبات دیا کرتا تھا اور آخر پر جو چند مریض رہ جاتے تھے ان کا علاج مذکورہ بالا طریق پر کرتا تھا۔پس مرکب بنانے پر مجبور ہونے کی ایک وجہ تو یہ ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ہومیو پیتھک طریقہ علاج تو دن بدن نئی دواؤں سے مزین ہو رہا ہے اور ایسی دوائیں دریافت ہورہی ہیں جو سابقہ دواؤں سے بہتر اثر دکھاتی ہیں یا سابقہ دواؤں میں ان مریضوں کا علاج ہی نہیں۔اس لئے جب مرکبات بنائے جاتے ہیں تو دراصل ایک نئی دودا وجود میں آتی ہے۔کیونکہ اکثر دوائیں جو پہلے استعمال ہو رہی ہیں وہ قدرتی مرکبات ہی تو ہیں۔مثلاً نکس وامیکا کو ایک دو کہنا اس لئے درست نہیں کہ نکس وامیکا تو بہت سی دواؤں کا قدرتی طور پر بننے والا ایک مرکب ہے۔پس میں ہمیشہ اپنے بنائے ہوئے مرکبات پر اس پہلو سے غور کرتا ہوں کہ آخری نتیجہ کے طور پر ان کی کون سی علامات قابل اعتبار ہیں اور ہر گز ضروری نہیں کہ ہر دوا جو اس مرکب میں شامل ہو اس کی تمام