ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xxv of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xxv

دیباچه 13 گیا ہے۔دراصل وہ سپیا (Sepia) کا مریض نکلا اور سپیا دینے پر اس کی آنکھیں کھل گئیں۔درد جاتارہا اور وہ بالکل ٹھیک ہو گیا۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ ضدی بیماریوں میں لازماً مریض کو سامنے بٹھا کر اسکی تفصیلی چھان بین ہونی چاہیے۔ایک دفعہ ایسا ہی تجربہ مجھے گردے کے ایک مریض کے بارہ میں ہوا۔میں اسے مرض کے حاد حملے کو فوراً روکنے کے لئے ایکونائٹ اور بیلاڈونا کا مشہور نسخہ دیتا رہا لیکن اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ میں اسے وہ دوائیں دے رہا ہوں جو تب کام آتی ہیں جب مریض کو گرمی نقصان پہنچائے اور ٹھنڈ سے فائدہ ہو۔اس مریض کو گرم غسل لینے سے شدید تکلیف پہنچتی تھی۔میں نے اس بات کو پیش نظر رکھ کر جب اس کو میگنیشیا فاس اور کولو سنتھ ملا کر دیں تو وہ دیکھتے دیکھتے ہی ٹھیک ہو گیا۔ہومیو پیتھی میں کوئی بھی ٹکسالی کا نسخہ ہمیشہ نہیں چل سکتا۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ کچھ دیر کے لئے بیماری کو بھول کر مریض کو دیکھ کر اس کی ذاتی علامتوں کو پیش نظر رکھیں۔گرمی اور سردی کی دوائیں ذہن میں الگ الگ رکھنی چاہئیں۔اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔مثلاً اگر مریض کی طبیعت گرم ہے تو اسے ٹھنڈی دوا ئیں دینے سے فائدہ کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔مریض کے مزاج کے رخ اچھی طرح ذہن میں رکھنے چاہئیں کہ کون سا ایسا مریض ہے جس کو گرمی نقصان پہنچاتی ہے یا سردی سے تکلیف بڑھتی ہے یا حرکت نقصان پہنچاتی ہے اور آرام سے تکلیف بڑھتی ہے۔اگر یہ چیزیں ذہن نشین ہوں تو مریض سے بات کرتے ہوئے مرض سے ہٹ کر مریض کی طرف توجہ دی جاسکتی ہے۔اگر روز مرہ کی مصروفیت کی وجہ سے وقت نہ ملے تو مرض کے حوالے سے دوائیں دی جاتی ہیں۔میں بھی ہمیشہ وقت کی کمی کی وجہ سے ایسے ہی نسخوں کی تلاش میں رہا جن سے جلد فائدہ ہو جائے۔لمبے تجربے کے پیش نظر احتیاط سے بنائے ہوئے یہ نسخے کام اکثر صورتوں میں آجاتے ہیں لیکن جو مریض باقی رہ