ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 219
کیمفر 219 کیمفر میں گرمی اور سردی کا اولنا بدلنا بھی پایا جاتا ہے۔جب جسم ٹھنڈا ہو تو درمیان میں ایک دم جسم تھوڑی دیر کے لئے گرم بھی ہو جاتا ہے۔یہ کیفیتیں اولتی بدلتی رہتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ بخار دب کر اندرونی اعضاء میں منتقل ہورہا ہے۔جب بخار دب کر اندر ریڑھ کی ہڈی میں چلا جائے یا دماغ میں منتقل ہو جائے تو جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔مگر جسم بار بار بیماری کے خلاف مدافعت کرتا ہے اور اسے دھکیل کر باہر لانے کی کوشش کرتا ہے۔لہذا جسم کبھی ٹھنڈا اور کبھی گرم ہو جاتا ہے۔اس صورت حال میں کیمفر بہت مفید ہے۔عورتوں کی ادھیڑ عمر میں جب حیض بند ہونے کا وقت آئے تو بسا اوقات کئی قسم کی تکلیفیں شروع ہو جاتی ہیں۔چہرے پر گرمی کی لہریں محسوس ہوتی ہیں۔اس میں دوسری دواؤں کے علاوہ کیمفر کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیئے۔ایسی عورتیں جو کیمفر سے آرام محسوس کرتی ہیں کپڑا اتار دیں تو سخت ٹھنڈ محسوس کرتی ہیں اور کپڑا اوڑھیں تو پسینہ سے تر بتر ہو جاتی ہیں۔کیمفر کا سر درد سارے سے میں نہیں ہوتا بلکہ یا تو سر کی پشت پر شروع ہوگا یا پیشانی پر وہ سر درد جو سر کے پیچھے اور گردن کے نچلے حصہ میں محدود ہو نیز دھڑکن بھی پائی جائے اس کا کیمفر سے علاج ممکن ہے۔تشنج اور دندل پڑنے ( بتیسی بند ہونے ) میں کیمفر بطور علاج مشہور ہے۔بسا اوقات گرمی کی شدت سے یا اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے عورتوں کو دندل پڑ جاتے ہیں۔منہ زبردستی کھول کر اندر دوا ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔کیمفر کی چھوٹی طاقت کی ہومیو دوا سے صرف ہونٹ گیلا کر دیں تو وہ خود بخود داثر دکھائے گی اور یہ کیفیت جاتی رہے گی یہ شیخ اور دندل پڑنے سے ہونٹ نیلے ہو جاتے ہیں۔صرف ہونٹ ہی نہیں بلکہ زبان بھی نیلی ہو جاتی ہے۔یہ کیمفر کی خاص علامت ہے۔کیمر کے مریض کی پیاس پانی پینے سے بھی نہیں۔بہت ہی ٹھنڈا پانی پینے کو دل چاہتا ہے۔گیس کی تکلیفوں میں متلی اور قے کا رجحان پایا جاتا ہے۔قے کے بعد معدے میں