ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 218 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 218

کیمفر 218 اور سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔قطرہ قطرہ پیشاب بہت جل کر آتا ہے۔یہ علامتیں ایک حد تک کیمفر میں بھی پائی جاتی ہیں۔بعض اوقات سینتھرس کا زہر دینے سے گردوں میں مستقل سوزش ٹھہر جاتی ہے جو مریض کو اعصابی لحاظ سے بھی متاثر کرتا ہے، ایسی صورت میں کیمفر اس اثر کو زائل کرتی ہے اور یہ صرف عارضی دوا نہیں بلکہ مستقل طور پر بھی بعض بیماریوں کے بداثرات مثانے کے لئے مفید ہے۔کیمفر کا مریض پہنی لحاظ سے بہت کمزور ہو جاتا ہے۔حافظہ جواب دے دیتا ہے، اکیلے رہنے سے خوف محسوس کرتا ہے، چکر آتے ہیں اور بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے۔آنکھیں بند کر کے لیٹا رہتا ہے، لگتا ہے کہ سو گیا ہے لیکن سوتا بھی نہیں۔دنیا سے بے تعلق سا ہو جاتا ہے۔اس میں جنون اور شدید غصہ کی علامت بھی پائی جاتی ہے۔یہ علامت کینتھرس اور ہائیوںمس (Hyoscyamus) دونوں میں ملتی ہے۔سوزش دماغ کی طرف منتقل ہوتی ہے اور مریض دیوانگی اور تشدد پر اتر آتا ہے۔اگر رحم کے انفیکشن کے نتیجہ میں بخار ہوتو پائیر چین اور سفر کے علاوہ کیمفر بھی اچھی دوا ہے۔اگر جسم ٹھنڈا ہو تو کیمفر سے علاج شروع کرنا چاہئے۔بعض اوقات بخار دب جاتا ہے اور جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔اس وقت سلفر کی بجائے کیمفر ضروری ہے۔جب وہ بخار کو باہر نکال لائے تو سلفر اور پائیر و جینم ملا کر دینی چاہئے۔کیمفر میں جسم ٹھنڈا ہونے کے باوجود پسینہ میں تر بتر ہوتا ہے لیکن مریض جسم پر کپڑا اوڑھنا برداشت نہیں کرتا ، اندرونی گرمی کے شدید احساس کی وجہ سے بعض دفعہ کپڑے بھی اتار پھینکتا ہے۔جسم پر کپڑا برداشت نہ کرنے کی علامت سیکیل (Secale Car) میں بھی پائی جاتی ہے۔لیکن فرق یہ ہے کہ سیکیل کا مریض گرمی محسوس کرتا ہے اور اس کا جسم بھی گرم ہوتا ہے۔کیمفر کا مریض باوجود ٹھنڈا ہونے کے کپڑا نہیں لیتا۔کیمفر کی علامتیں ایکونائٹ کے علاوہ کیمومیلا سے بھی ملتی ہیں۔کیمومیلا کا مریض غصیلا اور غیر مطمئن ہوتا ہے، کوئی چیز مانگے تو لے کر پرے پھینک دیتا ہے۔اگر ایسے مریض کیمومیلا کا نمایاں مزاج نہ رکھتے ہوں تو پھر کیمفر سے ان کا علاج کیا جا سکتا ہے۔