ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 217 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 217

کیمفر 217 53 کیمفر CAMPHORA (Camphor) کیمفر یعنی کافور کی سب سے نمایاں علامت یہ ہے کہ اس کے مریض میں بیماری کے دوران جسم کی بیرونی سطح بالکل ٹھنڈی ہو جاتی ہے لیکن اندرونی طور پر مریض کو بہت گرمی کا احساس ہوتا ہے۔بے حد نقاہت اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔تشنجی کیفیات بھی بہت نمایاں ہیں۔اگر جسم بالکل ٹھنڈا ہو اور شیخ کی کیفیت پائی جائے تو کوئی بھی بیماری ہو اس میں کیمفر مفید ہوگی۔ہیضہ میں بھی بہت مؤثر دوا ہے خصوصاً گم ہیضہ جس میں بغیر درد کے دست ہوتے ہیں یا دست ہوتے ہی نہیں لیکن یکدم توانائی ختم ہو کر سارا جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔اس میں کیمفر چھوٹی طاقت میں دینے سے غیر معمولی فائدہ پہنچتا ہے۔اگر ہیضہ کی حالت میں معدہ اور ہاتھ پاؤں میں تشنج نمایاں ہو تو کیو پرم دوا ہے لیکن تشنج کے ساتھ اعضاء برف کی طرح ٹھنڈے ہو جا ئیں اور ٹھنڈا پسینہ آئے تو یہ کیمفر کی خاص علامت ہے۔کیمفر کے ہیضہ میں متلی بھی نمایاں ہوتی ہے۔کیمفر میں شدید خوف اور اندیشے بھی پائے جاتے ہیں۔اس پہلو سے یہ ایکونائٹ سے مشابہ ہے سوائے اس کے کہ ایکونائٹ میں ایسی سردی نہیں ہوتی جو کیمفر کا طرۂ امتیاز ہے۔اگرا یکونائٹ کی طرح اچانک بیماری شروع ہو اور اس میں خوف غالب ہو اور تشیخ بھی پایا جائے لیکن مریض بہت ٹھنڈا ہو توا یکونائٹ کی بجائے کیمفر دوا ہوگی۔اگر بیماری میں شدت ، تپش اور تیزی پائی جائے تو ایکونائٹ مفید ہے۔کیمٹر کا لیفترس (Canthuries) سے بھی ایک تعلق ہے اور پینتھرس کے اثر کو زائل بھی کرتا ہے۔کیتھرس میں گردوں کی جھلیاں متورم ہو جاتی ہیں اور پیشاب کی نالی میں جلن