ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 200 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 200

کلکیر یا فلور 200 سخت ہو گئے ہوں۔آنکھوں کے سامنے ستارے ناچتے ہوں، کورنیا پر دھبے نظر آتے ہوں، آنکھ کی رگیں سخت ہو جائیں تو کلکیر یا طور کو یاد رکھیں۔کانوں کے پردوں میں تختی پائی جائے، کانوں میں گھنٹیاں بجتی ہوں، کان بہتے ہوں اور ناک کے پچھلے حصہ کے غدود جو گلے کے جوڑ سے ملتے ہیں بڑھ جائیں تو ان کے لئے کلکیر یا فلور کے علاوہ برائیٹا کارب بھی اچھی ثابت ہوتی ہے، لیکن جو غدود آہستہ آہستہ بڑھ کر پتھر کی طرح سخت ہو جائیں ان کی سب سے اہم دواکلکیر یا فلور ہی ہے۔نزلہ زکام میں سخت بد بودار اور گاڑھی سبزی مائل رطوبت خارج ہوتی ہے۔رخساروں اور جبڑوں کی ہڈی پر سوزش، دانتوں میں درد، مسوڑھے سوجے ہوئے ، زبان پر سختی اور سوزش نمایاں، دانت ہلنے لگتے ہیں اور کھانا کھاتے ہوئے سخت درد ہوتا ہے۔حلق میں درد جسے گرم مشروب پینے سے آرام آتا ہے اور ٹھنڈی چیزوں سے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔مردوں اور عورتوں کے جنسی اعضاء کی تکلیفوں سے بھی اس کا تعلق ہے۔بعض اوقات اعضائے رئیسہ میں خون کی نیلی رگ بن جاتی ہے جس سے خون نکلنے لگتا ہے۔اس کے لئے کلکیر یا فلور کے علاوہ برائیٹا کا رب بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔کلکیر یا فلور اس بواسیر میں بہت کارآمد ہے جس کے مسے پھول کر بہت سخت ہو چکے ہوں اور اگر تھائیرائیڈ گلینڈ بھی سوج کر پتھر کی طرح سخت گلہڑ بن گیا ہو تو وہ بھی کلکیر یا فلور کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ایک دفعہ ایک مریض کو ایسے ہی پتھر کی طرح سخت مسوں کے لئے میں نے کلکیر یا فلور 1000 طاقت میں دی۔ان کا تھائیرائیڈ بھی بہت بڑھا ہوا تھا جسے وہ کپڑے سے ڈھانپ کر رکھتے تھے اور مجھے اس کا علم نہیں تھا۔انہیں شدید بخار ہو گیا لیکن وہ بہت بہادر آدمی تھے۔سمجھ گئے کہ دوا کا اثر ظاہر ہوا ہے۔کسی اور علاج کی طرف راغب نہ ہوئے۔ایک ہفتہ کے اندراندر بخار اتر گیا اور بواسیر کے پتھر یلے مسے کے علاوہ گلہڑ بھی غائب ہو گیا۔اس کی صرف تھیلی سی باقی رہ گئی۔وہ بھی آہستہ آہستہ سکڑ کر چھوٹی ہو گئی۔اسی طرح ایک نوے سالہ بزرگ مریض کو موتیا کے لئے کلکیر یا فلور اور زنکم سلف اونچی طاقت یعنی CM میں استعمال کروائی۔اللہ کے فضل سے ان کی آنکھ شیشے