ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 192
192 کلکیریا کارب کر نا ممکن نہیں البتہ یہ بیماری کے ظاہری بداثرات کو دور کرنے کے لئے مسلسل دینی پڑتی ہے۔چونکہ معدہ اسے ہضم نہیں کرتا اس لئے اسے بذریعہ انجیکشن دینا پڑتا ہے اور ایسے مریض کو عمر بھر وٹامن بی 12 کے ٹیکے لگانے پڑتے ہیں۔ایسے مریض کو اگر ہو میو پیتھی دوا کی صورت میں کلکیریا کا رب دی جائے تو ان ٹیکوں کی ضرورت نہیں رہتی اور جسم خود بخودخون بنانے لگتا ہے۔کلکیریا کارب میں عضلات کا ڈھیلا پن پایا جاتا ہے۔اگر عضلات ڈھیلے ہو کر لٹک جائیں اور جسم موٹا ہونے لگے تو سارا نظام صحت بگڑ جاتا ہے۔کچھ عرصہ تک مسلسل کلکیریا کارب دینے سے فائدہ ہوتا ہے۔جسم میں کیلشیم کی کمی واقع ہو جائے تو ہو میو پیتھی پوٹینسی میں دوا کھلانے سے یہ کمی دور ہو جاتی ہے۔بعض اوقات اچانک کھڑا ہونے سے گھٹنے کے عضلات جسم کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے اور انسان گر جاتا ہے۔بلڈ پریشر کی کمی کی وجہ سے بھی ایک دم کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے۔اگر عضلاتی کمزوری سے ایسا ہو تو کلکیر یا کارب بہت مفید ہے۔گہری اور مزاج سے مطابقت رکھنے والی دوائیں جو انسانی جسم کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں اگر مناسب وقفوں کے ساتھ مستقل استعمال کی جائیں تو یہ علاج وقت تو لے گا مگر بہت مفید اور دیر پا اثرات کا حامل ہوگا اور ہر بیماری کا الگ الگ علاج کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔مریض بحیثیت مجموعی شفا پا جاتا ہے۔یادر ہے کہ کلکیریا کارب کے بعد اگر سلفر دینی ہوتو پہلے لائیکو پوڈیم دینی ہوگی پھر سلفر دی جاسکتی ہے۔سلفر سے جو اندرونی بیماریاں جلد پر اچھلتی ہیں بسا اوقات نکس وامیکا ان کا توڑ ثابت ہوتا ہے (مثلاً بواسیر کے مسوں میں) لیکن بواسیر کے مسوں کے علاج کے لئے کلکیریا کارب بھی اچھی دوا ہے۔اس کے علاوہ اور بھی دوائیں کلکیریا کارب سے مشابہ ہیں۔مثلاً ایسکولس (Aesculus) میں بھی کلکیریا کی طرح بواسیری مسوں میں خون اور پیپ کی علامات ملتی ہیں۔کلکیریا کارب کینسر کے رجحان کوروکنے کے لئے ایک اونچا مقام رکھتی ہے لیکن