ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 191
کلکیریا کارب 191 47 کلکیریا کاربونیکا CALCAREA CARBONICA کیلشیم کاربونیٹ دودھ کا بنیادی جزو ہے۔اس سے ہڈیاں، آنکھ کا سفید حصہ اور بعض دیگر اہم اعضاء تخلیق پاتے ہیں۔دودھ جو مکمل غذائیت کا حامل ہے اس میں کیلشیم سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔کیلشیم کا توازن بگڑنے سے متفرق عوارض خصوصاً ہڈیوں کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔کلکیریا کارب غدودوں، جلد اور ہڈیوں پر اثر انداز ہونے والی اہم دوا ہے۔ایسے مریض کو بہت جلد سردی لگ جاتی ہے، پاؤں کبھی ٹھنڈے ہوتے ہیں اور کبھی گرم۔چھاتی میں جکڑے جانے کا احساس ہوتا ہے۔کھانسی رات کو خشک اور دن کو عام طور پر بلغمی ہوتی ہے۔بلغم زردی مائل بد بودار ہوتا ہے اور بہت مشکل سے نکلتا ہے۔بچوں کے دانت نکالنے کے زمانے میں انہیں جو کھانسی شروع ہو جاتی ہے اور بآسانی پیچھا نہیں چھوڑتی بسا اوقات وہ کلکیریا کارب سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔کلکیریا کارب کا مزاج رکھنے والے لوگوں کے چہرے عموماً بے رونق ہوتے ہیں ، جلد چکنی اور زردی مائل۔بعض ایسے مریض بات کرتے کرتے ایک دم نڈھال ہو جاتے ہیں اور خون کی کمی کا بھی شکار رہتے ہیں۔دماغی محنت انہیں کمزور کر دیتی ہے جس سے بعض دفعہ وہ پسینہ پسینہ ہو جاتے ہیں اور سانس لینے میں انہیں دقت پیش آتی ہے۔سردی اور نمی کو پسند نہیں کرتے۔تازہ ہوا اور خنکی سے بھی نفرت ہوتی ہے۔بھیگنے پر رسٹاکس کی طرح بیماریاں فوراً آ گھیرتی ہیں۔خون کی کمی میں کلکیریا کارب نمایاں اثر رکھتی ہے۔خون کی یہ کمی دراصل معدے کی جھلیوں کی خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں وہ لعاب پیدا نہیں ہوتے جو وٹامن بی 12 کو ہضم کرتے ہیں۔خون کی ایسی کمی کا مستقل علاج محض وٹامن بی 12 سے