ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 190
190 کلکیریا آرس کالکیر یا آدرس کو بھی استعمال کر کے دیکھ لینا چاہئے۔اس کے سردرد کی علامت سیمی سی فیوجا (Cimicifuga) سے بالکل الٹ ہے۔سیمی سی فیوجا میں ماؤف حصہ کے بل لیٹنے سے درد میں اضافہ ہو جاتا ہے بلکہ بعض دفعہ دکھتے حصہ کو دبانے سے اعصاب بھی پھڑ کنے لگتے ہیں۔کلکیریا آرس میں جس کروٹ مریض لیٹے گا اس کے مخالف سمت در دشروع ہو جائے گا۔اگر دائیں طرف لیٹے گا تو سر درد کا حملہ بائیں طرف ہو جائے گا۔جب بائیں طرف سر رکھے گا تو درد دائیں طرف منتقل ہو جائے گا۔یہ کلکیریا آرس کی خاص علامت ہے۔جس پرانے سر درد میں یہ علامت پائی جائے اس میں کلکیر یا آرس بہت مؤثر ثابت ہوگی۔اس کے علاوہ اور کوئی واضح علامت ایسی نہیں ہے جو کلکیریا آرس کے سر درد کا خاصہ ہو۔چہرے اور سر کی جلد پر ایگزیما بھی اس میں عام پایا جاتا ہے۔گردوں میں بھی درد ہوتا ہے اور دکھن کا احساس ہر وقت رہتا ہے جو پتھری کی وجہ سے نہیں بلکہ عام سوزش کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس میں لیکوریا زردرنگ کا ہوگا جو کاٹنے والا تیزابی مادہ رکھتا ہے۔بعض دفعہ لیکور یا عورتوں کے لئے تکلیف کا باعث بننے کے علاوہ نفسیاتی الجھنیں بھی پیدا کر دیتا ہے۔اس قسم کے لیکوریا میں کلکیریا آرس کے علاوہ کالی فاس اور آرسنک بھی مفید دوائیں ہیں جو سخت بد بودار اور سوزش والے لیکوریا کا توڑ ہیں۔رحم کے کینسر میں اگر مسلسل ہلکا ہلکا خون جاری رہے اور وہ تیزابی اور بد بودار ہو تو اس میں بھی کلکیر یا آرس بہت فائدہ بخش ہے۔دافع اثر دوائیں : کار بوویج گلونائن پلسٹیلا طاقت: 30 سے 1000 تک