ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 189
189 کلکیریا آرس میر یا آدرس کانکس وامیکا اور دوسری دواؤں سے فرق یہ ہے کہ اس میں مستقل فالجی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جبکہ محض تیزاب کی زیادتی کی وجہ سے فالج نہیں ہوا کرتا۔کلکیر یا آرس کی فالجی علامتیں شروع ہوں تو ہاتھ کانپنے لگتے ہیں اور جسم پر بھی کپکپی طاری ہونے لگتی ہے۔یہ فالج کا آغاز ہے۔مرگی کا مرض پہچاننے کے لئے ڈاکٹروں نے اورا (Aura) کا محاورہ استعمال کیا ہے یعنی مرگی کے حملہ کے آغاز میں جسم میں کسی جگہ جو سنسنی سی پیدا ہوتی ہے اسے ”اور“ کہتے ہیں۔بعض مریضوں کا ”اور معدے سے شروع ہوتا ہے بعض کا دل سے۔مثلاً دل پر کمزوری کا احساس ہوتا ہے اور گھبراہٹ ہوتی ہے۔کلکیریا آرس میں مرض کے حملہ کا آغاز ہمیشہ دل سے ہوتا ہے اس لئے اگر مریض کو یہ احساس ہو کہ دل میں کچھ ہو رہا ہے اور پھر مرگی سے مشابہ دورہ پڑے تو ایسی صورت میں کلکیریا آرس مکمل شفا بخشنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ایک اور علامت یہ ہے کہ مرگی کا دورہ پڑنے سے پہلے آواز بیٹھ جاتی ہے اور مریض بول نہیں سکتا۔سیڑھیاں چڑھتے وقت اگر سانس اکھڑے تو کلکیریا آرس اچھی دوا ہے۔اس میں بیماریاں زیادہ تر بائیں طرف حملہ کرنے کا رجحان رکھتی ہیں۔سٹیفی سیگر یا (Staphysagria) کی طرح اس دوا میں بھی غصہ ، نا پسندیدگی اور ناراضگی کے بداثرات سے پیدا ہونے والی بیماریاں شامل ہیں۔اس میں جو خیالی نظارے دکھائی دیتے ہیں ان میں بھوت پریت اور دیگر وہمی نظارے شامل ہیں۔بعض دفعہ اس کے مریض آگ کی خواہیں بکثرت دیکھتے ہیں۔یہ علامت نیٹرم میور میں بھی ہے جس میں زیادہ تر آگ لگنے اور سانپوں کے خواب آتے ہیں۔اگران علامتوں کے ساتھ مستقل پاگل پن کا حملہ ہو جائے تو ایسے پاگل پن میں گلگیر یا آرس اچھی دوا ثابت ہوسکتی ہے۔اگر خون کا دبا ؤا چانک سر کی طرف زیادہ ہو جائے اور چکر آنے لگیں اور توازن برقرار نہ رہے، ساتھ تشخجی کیفیت بھی ہو تو کلکیریا آرس اس میں بھی مفید ہے۔پرانے اور ضدی سردرد میں کلکیریا آرس بھی کام آ سکتی ہے۔اگر کسی اور دوا سے فائدہ نہ ہو تو