ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 188
کلکیریا آرس 188 صلى الله ہے۔اس کی آنکھوں میں بھی کچھ حماقت کے آثار نظر آتے ہیں یا اگر وہ غیر معمولی حساس ہو تو اپنی چھوٹی چھوٹی سوچوں میں مگن رہتا ہے اور سنجیدہ ، گہرے غور وفکر کے قابل نہیں ہوتا۔بعض معاندین آنحضرت ﷺ اور دیگر انبیاء پر اعتراض کرتے ہیں کہ انہیں الہام وغیرہ کچھ نہیں ہوتا تھا، یہ محض مرگی کی ہی ایک قسم تھی جو انہیں لاحق تھی۔لیکن انبیاء جو عظیم کام دنیا میں کرتے ہیں ان پر اس قسم کے لغو اعتراضات وارد ہو ہی نہیں سکتے۔انتہائی شدید دباؤ کے وقت بھی انبیاء کسی تکلیف میں مبتلا نہیں ہوتے بلکہ جب دباؤ شدید ہو تو مرگی کے مرض کا حملہ ضرور ہونا چاہئے۔عظیم رومن شہنشاہ سیزر کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ ایسی تقریروں کے دوران جب شدید ذہنی دباؤ ہوتا تھا لوگوں کے سامنے بے ہوش ہو کر گر جایا کرتا تھا جبکہ آنحضرت ﷺ انتہائی خطرناک حالات کا سامنا کرتے ہوئے اور بھی زیادہ مستعد اور سب صحابہ سے بڑھ کر چاق و چوبند ہو جاتے تھے۔اُحد کی سنگلاخ زمین اور حسنین کا میدان کارزاران بد بخت معترضین کے منہ میں خاک ڈالتے رہیں گے۔الہام کے وقت بعض دفعہ جور بودگی سی طاری ہوتی ہے وہ ہرگز مرگی سے کوئی دور کی مشابہت بھی نہیں رکھتی۔اعصابی دباؤ اور معدے کا تیزاب مل کر بعض دفعه سخت کمزوری پیدا کر دیتے ہیں یہاں تک کہ انگلی ہلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔مجھے خود یہ تکلیف ہو چکی ہے اور تکلیف کے دوران بعض دفعہ یہ محسوس ہوتا تھا کہ ابھی جان نکل جائے گی۔کئی کئی دن تک بستر سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔یہ مرض عارضی ہوتا ہے۔اگر تیزابیت کا مؤثر علاج کر دیا جائے تو یہ تکلیف ہمیشہ کے لئے پیچھا چھوڑ دیتی ہے۔کلکیر یا آرس میں جو کمزوری پائی جاتی ہے وہ بھی ضروری نہیں کہ مرگی ہی کی علامت ہو۔کلکیر یا آرس کے مرکب میں آرسنک کا جز ومعدہ میں تیزاب پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔لیکن اس سے جو شدید کمزوری پیدا ہواس کے علاج کے لئے آرسنک سے بہت زیادہ موثر دوا نکس وامیکا ہے۔