ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 169
برائیونیا 169 آئے تو یہ مریض کے لئے باعث رحمت ہے۔برائیو نیا کی کھانسی میں بلغم بہت خشک اور چھٹی ہوئی ہوتی ہے اور بہت مشکل سے نکلتی ہے۔چمٹ رہنے والی بلغم میں برائیو نیا اور اپی کاک کے علاوہ ہسپر سلف اور کو کس بھی اہم دوائیں ہیں۔برائیونیا میں پھیپھڑے کی خرابی بڑھنے سے خشکی کے باعث جگہ جگہ سے جھلیاں پھٹ جاتی ہیں جن سے ہلکا ہلکا خون رس کر بلغم میں شامل ہو جاتا ہے اور یہ بلغم لوہے کے زنگ کی طرح دکھائی دیتا ہے۔یہ زنگ نما بلغم برائیونیا کی خاص نشانی ہے۔برائیو نیا ہڈیوں کے کینسر میں فاسفورس کی مدد گار ثابت ہوتی ہے۔اسے تمیں طاقت میں فاسفورس کے ساتھ ادل بدل کر دینا چاہئے۔اگر عورتوں کی دائیں بیضہ دانی میں تکلیف ہوتو برائیو نی فائدہ پہنچاسکتی ہے۔سینے کی گلٹیوں میں خواہ وہ کینسر کی ہوں یا بغیر کینسر کے، اگر ان میں سختی پائی جائے اور حرکت سے درد ہو تو سب سے پہلے برائیونیا استعمال کرنی چاہئے۔برائیو نیا کا مریض جسے دائیں طرف پھیپھڑے کا نمونیہ ہو وہ عموماً دائیں طرف ہی لیٹتا ہے کیونکہ دبے ہوئے پہلو میں سانس کے آنے جانے سے حرکت کم ہوتی ہے۔بعض اوقات سوتے ہوئے میں جسم کو جھٹکے لگنے لگتے ہیں اور آنکھ کھل جاتی ہے۔ہو میو پیتھی میں بخار کے لئے عام طور پر تین اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں۔Continuous Fever یعنی مسلسل چڑھنے والا بخار جو ایک دفعہ چڑھے تو یا جان لیوا ثابت ہوتا ہے یا اگر اتر جائے تو پھر دوبارہ واپس نہیں آتا۔Remittent Fever وہ بخار ہے جواونچ نیچ دکھاتا ہے۔کبھی کم ہو جاتا ہے اور کبھی زیادہ لیکن بخار ٹوٹتا نہیں بلکہ جاری رہتا ہے۔Intermittent Fever اس بخار کو کہتے ہیں جو بیچ میں بالکل ٹوٹ جاتا ہے مگر پھر ہو جاتا ہے۔ملیر یا اسی قسم میں داخل ہے یعنی بار بار آنے والا بخار۔ٹائیفائیڈ Remittent بخار کہلاتا ہے جو کم تو ہو جاتا ہے مگر ٹوٹتا نہیں۔برائی اونیا مسلسل بخاروں میں نہیں بلکہ Remittent اور Intermittent بخاروں میں کام آ سکتی ہے۔ملیریا میں بسا اوقات برائیو نیا کی ضرورت پڑتی ہے اور ٹائیفائیڈ میں بھی یہ کام آتی ہے۔