ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 159

برومیم 159 40 برومیم BROMIUM برو میم کو ایک زمانے میں خناق (Diphtheria) کے لئے خاص دوا سمجھا جاتا تھا۔ایک لمبے عرصہ تک یہ نو آموز ہو میو پیتھ معالجوں کی پسندیدہ دوا تھی۔آج کل مغرب میں مدافعتی ٹیکوں کی وجہ سے خناق پر بہت حد تک قابو پالیا گیا ہے مگر غریب ممالک میں اب بھی بعض دفعہ یہ بیماری وبا کی طرح پھوٹ پڑتی ہے۔اس میں بردمیم سے بہت بہتر اور مؤثر دوائیں میور ٹیک ایسڈ، کالی میور اور ڈفتھیربینم ثابت ہوتی ہیں۔برومیم میں ڈفتھیر یا کی بجائے گلے کی دوسری بیماریاں عام ملتی ہیں۔غدودسوج کر سخت ہو جاتے ہیں اور گٹھلیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں گل کر اور پیپ بن کر ختم نہیں ہوتیں۔اس دوا کا غدودوں کی ہر قسم کی سوزش سے گہرا تعلق ہے لیکن عام ہومیو پیتھ اس سے پورا استفادہ نہیں کرتے۔تھائیرائیڈ (Thyroid) کی ہر قسم کی خرابی میں بہت کارآمد ہے۔اگر دوسری دوائیں علامات ملنے کے باوجود کام نہ کریں اور غدود بہت سخت ہو جائیں اور رفتہ رفتہ بڑھیں تو ایسی صورت میں برو میم کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ سخت جمی ہوئی گٹھلیوں کو بھی آہستہ آہستہ گھلانے لگ جاتی ہے مگر اسے تدریجا لمبے عرصہ پر پھیلا کر دینا چاہئے۔30 طاقت سے شروع کریں پھر 200 دیں، پھر کچھ دیر ٹھہر کر 1000 اور پھر اس سے اونچی طاقت میں دے کر دوائی دینی بند کر دیں۔اس کے مریضوں میں معدے کے زخم عام پائے جاتے ہیں۔اگر پسی ہوئی کافی کے رنگ کی الٹیاں آئیں اور معدے میں السر ہوا اور گٹھلیوں کا بھی رجحان ہو تو اس صورت میں برومیم بہت مفید ثابت ہوتی ہے بلکہ یہ معدے کے کینسر کی بھی بہت اہم دوا ہے۔