ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 158
بووسٹا 158 بودسٹا میں دو حیضوں کے درمیان کسی وقت اسہال لگ جاتے ہیں۔حیض کا خون اکثر وقت سے پہلے اور بہت کھلا آتا ہے۔جس کے بعد سبزی مائل گاڑھے لیکوریا کی شکایت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ دو حیضوں کے درمیان ہلکا سا خون جاری ہوتا ہے یا داغ لگنے لگتا ہے۔پیٹ کے درد کو آگے جھکنے سے آرام ملتا ہے اور ناف کے اردگرد در دزیادہ ہوتا ہے۔بعض دفعہ قولنج کے دورے کے ساتھ پیشاب میں سرخی آ جاتی ہے۔اس کی ایک علامت یہ ہے کہ درد قولنج میں کھانے سے کچھ افاقہ ہوتا ہے۔بووسٹا میں بغل کے پسینہ سے پیاز کی بو آتی ہے۔ہاتھوں کی پشت پر ایگزیما ہو جاتا ہے۔جذبات کی شدت اور ہیجانی کیفیت سے جلد کی علامات پر بداثر پڑتا ہے۔بوسٹا میں جلد پر دباؤ ڈالنے سے گڑھا سا بن جاتا ہے جو کافی دیر تک رہتا ہے۔جلد کی تکلیفیں گرمی سے بڑھتی ہیں۔یرانی چھپا کی میں اگر رسٹاکس پورا فائدہ نہ دے تو بووٹ مکمل شفاء کا موجب بن سکتی ہے۔کلکیر یا، رسٹاکس ، سپیا اور سی سی کیوٹا (Sicicuta) سے موازنہ کر کے دیکھیں۔ان سے موازنہ کرنا طبیب کے لئے اس کو بہتر سمجھنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔بعض کتابوں میں 3 سے 6 طاقت تجویز کی گئی ہے لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ 30 طاقت روز مرہ کے استعمال میں بہترین کام آتی ہے۔اس کے مریض کو بعض دفعہ بغیر ایگزیما کی علامتوں کے مقعد میں بہت کھجلی ہوتی ہے اور سارے جسم پر پھنسیاں بھی نکل آتی ہیں۔صبح اٹھنے پر چھپا کی ہو جاتی ہے جس میں نہانا بہت مضر ثابت ہوتا ہے۔بو وسٹا کوکول تار کا ایک اچھا تریاق بتایا جاتا ہے۔