ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xvii
دیباچہ 5 جانتے تھے کہ اگر بیماریاں جس میں پھولتی پھلتی رہیں تو اس دفاع کی طاقت کو ان کے خلاف کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔یہ ہو میو پیتھی کا وہ مرکزی راز تھا جس کی دریافت کا سہرا ہانیمن کے سر پر ہے۔اس نے انسانی طبعی نظام دفاع کو اتنی گہرائی سے سمجھا اور اس کی طاقتوں کا ایسے حیرت انگیز طریق پر مشاہدہ کیا کہ آج بھی یقین نہیں آتا کہ واقعتا انسانی جسم کو خدا تعالیٰ نے ایسی عظیم اور لطیف طاقتیں عطا فرمائی ہیں۔مگر مشاہدہ مجبور کرتا ہے کہ انسان یقین کرے۔اس اصول کے حق میں بہت سے مزید شواہد ہانیمن کے سامنے آئے کہ جسم ہر بیرونی حملے کے خلاف ایک طبعی رد عمل دکھاتا ہے۔ہر وہ چیز جس سے جسم اجنبیت محسوس کرے، خواہ وہ غذا ہو یا دوا ہو یا کسی قسم کا زہر ہو، جسم کا دفاعی رد عمل اس کے خلاف حرکت میں آجاتا ہے۔یہ بیرونی حملہ جتنا کمزور ہو اتنا ہی آسانی سے جسم اس کے خلاف کامیاب دفاع کرتا ہے۔ڈاکٹر ہانیمن نے اس طبعی نظام دفاع سے استفادہ کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا کہ اگر انسانی جسم میں کوئی ایسی بیمائی موجود ہو جس کو جسم نے کسی وجہ سے نظر انداز کر دیا ہو اور اس کا مقابلہ نہ کر رہا ہوتو اگر بہت ہی لطیف مقدار میں کوئی ایساز ہر جس کی علامتیں اس بیماری سے ملتی ہوں جسم میں داخل کر دیا جائے مگر اسے ہلکا کرتے کرتے باکل اثر کر دیا گیا ہو تو جسم اس نہایت کمزور بیرونی حملہ کے خلاف جو ردعمل دکھائے گا اسی ردعمل سے اس اندرونی بیماری کو بھی ٹھیک کر دے گا جو اس زہر کی علامتوں سے قریبی مشابہت رکھتی ہے۔پس وہ طریقہ علاج جس میں انہی زہریلی اشیاء کو ویسی ہی بیماری دور کرنے کے لئے استعمال کیا جائے جیسی وہ خود پیدا کرسکتی ہیں، اسے ہومیو پیتھی یا بالمثل طریقہ علاج کہا جاتا ہے۔مگر لازم ہے کہ اس زہر کو جب ہو میو دوا کے طور پر استعمال کیا جائے تو اسے اتنا ہلکا کر لیا جائے کہ وہ اپنا زہر یلا اثر پیدا کرنے کی طاقت سے کلیتا محروم ہو چکی ہو۔باوجود اس کے جسم کی لطیف دفاعی صلاحیت کا شعور اس