ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xvi
دیباچه 4 لگیں اور ہانیمن کو اس ملک سے فرار ہوکر کو تھن (Cothen) میں پناہ لینی پڑی۔یہاں ڈیوک آف کو تھن (Duke of Cothen) نے اس کی سر پرستی کی۔وہ چودہ سال کو تھن میں رہا اور اس عرصہ میں مزمن بیماریوں پر گہرا تحقیقی کام کیا۔اس تحقیقی کام کی پہلی جلد 1828ء میں شائع ہوئی۔1830ء میں اس کی بیوی کی وفات ہوئی اور 1835ء میں اس نے ایک فرانسیسی خاتون سے شادی کی اور پیرس منتقل ہوگیا۔1835ء سے لے کر 1843ء یعنی اپنی وفات تک یہ فرانس میں رہ کر ہومیو پیتھی کی پریکٹس کرتا رہا۔1835ء وہی سال ہے جس میں جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد پیدا ہوئے۔ہومیو پیتھی سے مراد علاج بالمثل ہے یعنی بیماریوں کا ملتی جلتی بیماریاں پیدا کرنے والے مادودں سے علاج۔یہ علاج ہانیمن کے وقت تک رائج علاج کے بالکل برعکس اصول پر مبنی تھا۔یہ درست ہے کہ کئی بیماریوں کے رائج علاج ایسے بھی تھے جو دراصل ہو میو پیتھک اصل کے مطابق کام کرتے تھے مگر معالجین کو اس اصول کا کوئی علم نہیں تھا۔وہ محض تجربے کی بنا پر محدود دائرے میں بعض دواؤں کو ہومیو پیتھک طریق علاج کے مطابق شفا دینے کے لئے استعمال کرتے تھے۔مثلاً اپی کاک (Ipecac) اور او پیم (Opium) کو خفیف مقدار میں ہلکے نیچر کی صورت میں ملا کر متلی اور قے کے رجحان کو روکنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔حالانکہ یہ دونوں دوائیں ایسی ہیں کہ انکی مقدار ذراسی بڑھا دی جائے تو ان میں متلی اور قے پیدا کرنے کا رجحان بشدت پایا جاتا ہے۔ہانیمن نے اسی قسم کی بہت سی دوائیں اپنی ایلو پیتھک پریکٹس کے دوران معلوم کیں اور اس بات پر غور کیا کہ آخر کیوں یہ دوائیں ایک بیماری پیدا بھی کرتی ہیں اور ہلکی مقدار میں اس کا انسداد بھی کرتی ہیں۔اس غور کے دوران اس نے انسانی نظام دفاع کا راز معلوم کیا۔اطباء عموماً یہ تو جانتے تھے کہ انسانی جسم میں دفاع کی طاقت ہے مگر یہ نہیں جانتے تھے کہ دفاع کی طاقت کتنی وسیع ہے اور کن اصولوں کے مطابق کام کرتی ہے اور یہ بھی نہیں