ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 128

برائیٹا کارب 128 بوڑھوں میں۔بعض دفعہ بیماریاں آکر گزر جاتی ہیں لیکن باقی رہ جانے والے اثرات چھوڑ جاتی ہیں۔برائیٹا کا رب ایسے دیر پا بد اثرات کو دور کرنے میں مفید ہے۔ڈاکٹر کینٹ کے مطابق برائیٹا کا رب ملیریا کی بھی ایک اچھی دوا ہے لیکن اس کا مجھے کوئی تجربہ نہیں۔ہاں ملیریا کے باقی رہنے والے بداثرات میں یہ ضرور فائدہ پہنچاتی ہے۔کینٹ نے لکھا ہے کہ ہر قسم کے چربی کے غدود، رسولیاں، لیوپس (Lupus) حتی کہ تپ دق کے پھوڑوں میں بھی برائیٹا کا رب اچھا اثر دکھاتی ہے لیکن مجھے ان امور کا بھی کوئی تجربہ نہیں۔جسم کی بیرونی سطح پر ابھرنے والے موٹے موٹے ٹیومر جو بہت بدزیب دکھائی دیتے ہیں اور تکلیف دہ ہوتے ہیں میں نے بارہا ان میں برائیٹا کارب استعمال کروائی مگر فائدہ نہیں ہوا۔ممکن ہے وہ چربی کے ٹیومر نہ ہوں کیونکہ برائیٹا کارب کا تعلق صرف چربی کے ٹیومر سے ہوتا ہے اور ان میں واقعتاً یہ فائدہ دیتی ہے۔اسی طرح میرے استعمال میں لیوپس پر بھی اس کا کوئی خاص اثر ظاہر نہیں ہوا۔کینٹ کی رائے کے مطابق اگر مریض کے مزاج کے موافق علاج کرنا ہو تو برائڈیٹا کارب کی سب طاقتیں استعمال کرنی چاہئیں۔صرف ایک ہی پوٹینسی پر انحصار کر کے بیٹھ نہیں رہنا چاہئے کیونکہ بعض دفعہ بہت گہری بیماری میں برائیٹا کارب کی چھوٹی پوٹینسیاں کام نہیں کرتیں۔کچھ عرصہ کے بعد ہزار پھر دس ہزار پھر پچاس ہزار اور پھر ایک لاکھ پوٹینسی تک بھی مناسب وقفے ڈال کر استعمال کرنی چاہئے۔جس بیماری میں یہ ابتدا میں کامیاب ثابت ہو اس کو بالآخر کلیۂ جڑ سے بھی اکھیڑ پھینکتی ہے۔برائیٹا کارب کا مریض بسا اوقات انجانے خطروں سے خوفزدہ رہتا ہے۔اسی طرح یہ بعض وہموں کو دور کرنے میں بھی خصوصی اثر دکھاتی ہے۔بعض مریضوں کو سر ہلانے پر یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کا دماغ بھی اندر ہل رہا ہے۔یہ علامت خصوصیت سے برائیٹا کا رب سے تعلق رکھتی ہے۔اگر دماغ کو خون کی فراہمی کچھ عرصہ تک رک جانے کی وجہ سے مرگی کا مرض پیدا ہو جیسا کہ مینجائٹس (Meningitis) میں ہو جایا کرتا ہے