ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 129
برائیٹا کارب 129 تو اس مرگی میں برائیٹا کا رب کو اگر با قاعدہ لمبے عرصہ تک استعمال کیا جائے تو یہ شفا کا موجب بن سکتی ہے۔اگر خون کی شریان پھٹ جائے اور سرخ رنگ کا خون بہنے لگے تو فاسفورس کے علاوہ برائیٹا کا رب بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔کا برائیٹا کارب کی آنکھوں کی بیماریوں میں آنکھوں کے پیوٹے ایک دفعہ اندرونی رساؤ کے جیم جانے کی وجہ سے موئے ہو جا میں تو موٹے ہی رہ جاتے ہیں۔برائیٹا کا رب کی یہ علامت ہر قسم کے غدودوں میں بھی پائی جاتی ہے۔گلے کے غدود اگر ایک دفعہ سوج جائیں تو پھر کم ہونے کا نام نہیں لیتے اور مستقل سوجے ہی رہتے ہیں۔برائیٹا کارب بالوں کے گرنے ،خشکی اور گنجے پن کا بھی علاج ہے۔خشکی اور ایگزیما کی علامت دوسری دواؤں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ممکن ہے کہ برائیٹا کارب کے مریضوں کے بالوں کی جڑوں میں فاسد مادے بیٹھنے سے بال کمزور ہو رہے ہوں۔یہ نظر کی کمزوری میں بھی مفید ہے۔اگر ایک عمر کے بعد نظر دھندلانے کا عمل شروع ہو جائے تو برائیٹا کارب معمول کے طور پر لمبے عرصہ تک کھلانا مضر نہیں، ہاں فائدے کا امکان ہے۔بعض دفعہ کولیسٹرول لیول زیادہ ہونے کی وجہ سے آنکھوں پر اثر پڑتا ہے۔اس صورت میں کولیسٹر وینم 30 اور فائٹولا کا 30 اور فاسفورس 30 طاقت میں ملا کر دینے سے فائدہ ہوگا۔لیکن فاسفورس 30 کو مسلسل لمبے عرصہ تک استعمال نہیں کرنا چاہئے۔اس میں خطرہ ہوتا ہے کہ لمبا استعمال خون کو ضرورت سے زیادہ گاڑھانہ کر دے۔آنکھ کے کورنیا کی تکلیفوں میں بھی برائیٹا کا رب مفید ہے۔بعض دفعہ آنکھوں میں گوہانجنیاں نکلنے کا رجحان ہوتا ہے ان میں بھی برائیٹا کارب اچھی دوا ہے۔بعض دفعہ گلے کے غدود سوج کر کن پیٹروں کی طرح موٹے ہو جاتے ہیں ان میں بھی برائیٹا کا رب بہت مفید ہے۔کن پیروں میں بھی یہ مفید ثابت ہوسکتی ہے۔بوڑھے آدمیوں کی زبان کے فالج کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔اگر بوڑھوں کی چھاتی میں بلغم ہو، سینہ کھڑ کھڑاتا رہے اور دوسری دوائیں فائدہ نہ دیں تو برائیٹا کا رب