ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 94

آرسینک 94 بھی پڑتا ہے۔اگر وقت پر آرسینک دے دی جائے تو انتڑیوں کی حرکت معمول پر آ جاتی ہے اور مریض کی طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔آرسینک کا گردوں کی بیماریوں سے بھی گہرا تعلق ہے۔گردوں کی جھلیوں کو بعض تیزابی مادے نقصان پہنچاتے ہیں اور پیشاب میں البیومن آنے لگتی ہے۔بے حد دماغی بوجھ اور مسلسل ذہنی کام دونوں مل کر اندرونی اعصاب میں بے چینی پیدا کر دیتے ہیں جس سے گردے کی جھلیاں زود حس اور ضرورت سے زیادہ فعال ہو جاتی ہیں۔آرسینک کے مریض کی پیاس بھی بے چینی کا مظہر ہوتی ہے۔گھونٹ گھونٹ پانی پیتا ہے لیکن پیاس بجھتی نہیں۔اصل میں یہ پیاس ہے ہی نہیں محض بے چینی ہے جس سے بار بار منہ خشک ہوتا ہے جسے تر کرنے کے لئے مریض گھونٹ گھونٹ پانی پیتا ہے۔اگر بیماری لمبی ہو جائے تو پیاس کلیتا غائب ہو جاتی ہے لیکن بے چینی قائم رہتی ہے۔اس صورت میں سارا جسم بے قراری سے حرکت کرتا ہے۔اگر جسم میں طاقت نہ ہو تو مریض دائیں بائیں سر پنکتا ہے۔منہ خشک ہونے کے باوجود پانی پینے کو دل نہیں چاہتا۔مریض سیمیم کے مریض کے مشابہ ہو جاتا ہے لیکن ایک فرق نمایاں ہے کہ جلسیم کا مریض بے چین نہیں ہوتا۔آرسینک کا مریض مسلسل کروٹیں بدلتا ہے۔تھوڑا تھوڑا پیشاب آتا ہے۔اگر گلے اور مثانے کی تکلیفوں میں آرسینک کی طرح بے چینی پائی جائے تو ہو سکتا ہے یہ بیماری کینسر ہو۔اسے آرسینک پوری طرح شفا نہ دے تو اس کا استعمال پھر بھی جاری رکھنا چاہیئے کیونکہ یہ مرض میں کمی ضرور پیدا کر دیتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ متعلقہ کینسر کی بالمثل دوافوری تلاش کرنی چاہئے۔اگر کینسر یا کسی اور بیماری کا مریض اپنے انجام کے قریب پہنچ چکا ہو اور اسے انتہائی تکلیف اور بے چینی ہو تو ایسی صورت میں اونچی طاقت یعنی ایک لاکھ میں آرسینک دینے سے مریض کو فوری سکون ملتا ہے۔لیکن اس عرصے میں اگر کوئی اور مؤثر دوا جس کا براہ راست اس کینسر سے تعلق ہو معلوم نہ ہو سکے تو آرسینک کے بعد مریض آرام تو پاتا ہے مگر اس کا بچنا محال ہوتا ہے۔پس اگر وقت آچکا ہے تو وہ تکلیف کی بجائے آسانی سے