ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 91
آرنیکا 91 علامت نہیں ملتی لیکن سورا ئینم کا مریض بد بودار مریض ہے۔سخت سردی محسوس کرتا ہے، بعض دفعہ مچھلی کی طرح جسم پر پتلے پتلے چھلکے سے نکل آتے ہیں جو بہت بھیا نک ہوتے ہیں۔آرسنک میں بھی یہ علامت ہے۔اگر ان میں بد بو بھی ہو تو آرسنک اور سورا ئینم دونوں اس کی بہترین دوا ئیں ثابت ہوسکتی ہیں۔آرنیکا کے مریض کو اگر بخار لمبا ہو جائے تو نیند میں پیشاب کے علاوہ اجابت بھی ہو جاتی ہے۔پیشاب گہرے رنگ کا ہوتا ہے، پیشاب میں خون آتا ہے، مثانہ میں پینٹھن ہوتی ہے۔مثانے میں بوجھ اور گردوں میں درد محسوس ہوتا ہے۔سردی لگتی ہے اور متلی اور قے کا رجحان ہوتا ہے۔اجابت کا رنگ سیاہی مائل ، حاجت بار بار ہوتی ہے۔اسہال کے ساتھ انتڑیوں میں شدید درد ہوتا ہے اور ہر اسہال کے بعد مریض بہت کمزوری محسوس کرتا ہے اور لیٹ جانے کو جی چاہتا ہے۔آرنیکا کالی کھانسی کی بھی بہت مفید دوا ہے۔اس کی خاص علامت یہ ہے کہ بچہ کھانسی سے پہلے یا بعد میں تکلیف کی شدت سے روتا اور چیختا ہے۔زور لگنے سے رگیں اور بار یک خلیے پھٹنے لگتے ہیں۔اگر آرنیکا نہ دی جائے تو کبھی ایسے مریض اندھے بھی ہو جاتے ہیں۔اندرونی دباؤ کی وجہ سے ایسی کیفیت ہو جاتی ہے جیسے جسم کو بہت کوٹا پیٹا گیا ہے۔آرنیکا ایسی کھانسی کو فی ذاتہ ٹھیک نہیں کرتی بلکہ قدرے سکون بخش دیتی ہے اور مریض کی حالت نا قابل برداشت نہیں رہتی۔کھانسی کے لمبے بداثرت بھی باقی نہیں رہتے۔ڈروسرا (Drosera) کالی کھانسی اور اس سے مشابہ کھانسیوں میں بہت مفید ہے۔رات کو ایک دفعہ تمہیں طاقت میں دینے سے غیر معمولی فائدہ ہوتا ہے۔آرنیکا کا مریض چڑ چڑا، نمکین ، پریشان اور مایوس رہتا ہے لیکن یہ مزاج صرف بیماری کے دوران ہوتا ہے ورنہ اس کے مستقل مزاج میں مایوسی اور چڑ چڑا پن نہیں ہوتا۔یہ دوا بیماریوں سے متاثر ہو کر اپنا ایک خاص مزاج بنا لیتی ہے۔جب بیماری زیادہ بڑھ جائے تو درد کا احساس کم اور غنودگی کا غلبہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ذہنی لحاظ سے آخر تک تندرست رہتا ہے۔کوئی بات پوچھنے پر بالکل ٹھیک جواب دے گا۔