ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 89
آرنیکا 89 که بعض دفعه صرف چوٹ کا ہی اثر نہیں ہوتا بلکہ بعض عضلات کمزور ہو جاتے ہیں اور برائیو نیا عضلات کے اندر کی تکلیفیں جو چوٹ سے علاوہ ہوں ان کی بھی اچھی دوا ہے اور عضلات میں طاقت پیدا کرتی ہے۔کاسٹیکم میں عضلات ڈھیلے ہو کر مفلوج سے ہو جاتے ہیں یا ہر نیا کی علامتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔66 اگر تکلیف دائیں طرف ہو تو آرنیکا ، بیلاڈونا اور برائیونیا کا نسخہ مفید ہو گا۔بائیں طرف تکلیف کے لئے آرنیکا لیکیس اور لیڈم بہت بہتر نتائج پیدا کرتی ہیں۔اگر چوٹ یا حادثے کی وجہ سے پٹھ اپنی جگہ سے ہل جائے اور موچ کی کیفیت ہو تو عموماً آرنیکا کی اونچی طاقت سے بہتر کوئی اور دوا کام نہیں کرتی۔چند گھنٹوں میں فرق پڑ جاتا ہے۔اگر کمر میں کسی جھٹکے کے نتیجہ میں ”چک“ پڑ جائے یعنی عارضی طور پر عضلات اپنی جگہ سے ٹل جائیں تو یہ کیفیت خود بخود کچھ عرصہ کے بعد ٹھیک ہو جاتی ہے اور کسی مستقل بیماری کا حصہ نہیں بنتی۔لیکن بعض دفعہ یہی مستقل بیماری بن جاتی ہے اور کمر کو جھٹکا لگنا عمر بھر کا روگ لگا دیتا ہے۔پہلے سے کمزور عضلات اور بھی سکڑ جاتے ہیں یا ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔اس صورت میں آرنیکا مددگار ہوتی ہے مگر یہ براہ راست عضلات کی اندرونی کمزوریوں کی دوا نہیں ہے۔اس تکلیف کو رفع کرنے کے لئے ایک امکانی دوا سی می سی فیوجا“ بھی ہوسکتی ہے جو عضلات کی گہری تکلیفوں میں کام آتی ہے۔اگر کمر میں درد ٹھہر جائے تو آغاز میں آرنیکا اور برائیو نیا استعمال کرنی چاہئے لیکن اگر آفاقہ عارضی ہو تو آرنیکا کے ساتھ برائی اونیا کی بجائے رسٹاکس ملا کر دیکھیں کیونکہ رسٹاکس عضلات کی گہری کمزوریوں کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس لئے فالج کی بھی بہت مؤثر دوا ہے، عضلات کو تقویت پہنچاتی ہے اور ان میں جان ڈال دیتی ہے۔پھیلے ہوئے دل کی بھی دوا ہے۔لمبے پرانے فالجوں میں بھی سلفر کے ساتھ ملا کر دینا بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔اس کے بعد کلکیریا کا رب کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے کیونکہ یہ سلفر اور رسٹاکس دونوں کی مزمن (Chronic) دوا ہے یعنی ان کے اچھے اثرات کو آگے بڑھاتی ہے۔