ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 69 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 69

امیس 69 غلافوں میں عضلات لیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ایپوسائینم (Apocynum) کا بھی یہی حال ہے کہ یہ زیادہ تر غلافوں کی دوا ہے۔یہ دونوں دوائیں پیٹ کی لعاب نکالنے والی جھلیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں جیسا کہ انتڑیوں کی جھلیوں پر یا گردے کی جھلیوں پر جو خون سے پیشاب کو نتھارتی ہیں۔دونوں میں عموماً ورم پھلپھلی ہوتی ہے مگرا یپوسائینم کی ورم بعض دفعہ سخت بھی ہو جاتی ہے۔اگر جلد کو دبایا جائے تو جیسا کہ ورم والی جگہ میں عموماً ہوتا ہے دبانے کا نشان کچھ دیر تک اس طرح رہتا ہے اور آہستہ آہستہ اٹھ کر باقی جگہ سے مل جاتا ہے۔اگر ایپس کے مریض کے گردے خراب ہوں تو آنکھ کے نیچے پھلی ورم ان کی نشاندہی کرتی ہے۔اگر اس کے ساتھ گردوں میں ٹیسیں پڑنے یا گرمی سے تکلیف کے بڑھنے کی علامت موجود ہو تو قطعی طور پر یہ مرض ایپس کے دائرہ اثر میں ہوگا۔اگر آنکھ کے اندر تکلیف ہو تو آنکھ کا اندرونی حصہ اور پپوٹوں کے نیچے کی جھلیاں سوج کر بھیا تک منظر پیش کرتی ہیں۔ان میں شوخ سرخی کے علاوہ چھن دار درد بھی ہوتا ہے اور ایپس کی بنیادی علامت یعنی گرمی سے تکلیف کا بڑھنا اس کی نشاندہی کرتا ہے۔ایسا مریض دھوپ میں آنکھ نہیں کھول سکتا۔انیس کی بعض تکلیفیں دائیں طرف ہوتی ہیں۔بری خبر سننے سے یا حسد اور جلن سے دائیں طرف فالج ہو جاتا ہے۔البتہ آنکھ کی تکلیف اکثر بائیں آنکھ سے شروع ہوتی ہے۔گلے کی خرابی میں بھی اسی طرح پہلے بائیں طرف سوزش ہو گی پھر دائیں طرف منتقل ہو گی۔جو لیکیس کی بھی ایک نمایاں علامت ہے لیکن ایپس میں گرم پانی کے غراروں کی بجائے ٹھنڈے پانی کے غراروں سے آرام آتا ہے۔ایس کے مریض کا پیٹ اکثر ہوا سے تن جاتا ہے جس کے نتیجہ میں دائیں طرف پسلی کے نیچے بیج ہونے لگتا ہے اور مریض ماؤف جگہ کو دبا کر رکھنے سے آرام پاتا ہے اور جب تناؤ اور بڑھ جائے تو بائیں طرف بھی دل کے نیچے تشنج ہونے لگتا ہے جیسے شکنجہ پڑ گیا ہو۔اگر مریض گرمی سے بے چینی محسوس کرے تو ایپس تیر بہدف ثابت ہوتی ہے اور ایک دو