ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 68

امیس 68 حمل کے دوران خصوصاً آخری دنوں میں بعض عورتوں کو سنج ہو جاتا ہے۔عمومی تاثر یہ ہے کہ ایسی حالت میں گرم پانی سے نہانے سے سکون ملتا ہے لیکن اگر مریضہ کا مزاج ایپس سے ملتا ہو تو گرم پانی کے غسل سے سخت قسم کے شیخ ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ رحم کا منہ سکڑنے کی وجہ سے بچہ رحم کے اندر مر جاتا ہے اور ایسی مریضہ فوری طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے مر بھی سکتی ہے۔اسی طرح چھوٹی عمر کے بچے جو اپنی تکلیف بیان نہیں کر سکتے اگر وہ مزاجاً ایپس سے مشابہت رکھتے ہوں تو گرم غسل دینے سے ان کی تکلیفیں ہمیشہ بڑھیں گی اور جگہ جگہ شیخ ہونے لگیں گے۔ہومیو پیتھک ڈاکٹر ز کا مشاہدہ ہے کہ یہ شیخ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔اس لئے یہ معلوم کرنا بہت ضروری ہے کہ مریض کی تکلیف ٹھنڈ سے بڑھتی ہے یا گرمی سے۔اگر گرمی سے تکلیف بڑھے تو اپس کے علاوہ بیلاڈونا اورا یکونائٹ ایک ہزار طاقت میں ملا کر دو تین خوراکیں دس پندرہ منٹ کے وقفہ سے دینے سے بیماری کے آغاز میں ہی بہت نمایاں افاقہ محسوس ہوتا ہے۔اگر ٹھنڈ سے تکلیف بڑھے تو میگ فاس دینی چاہئے۔وسائینم (Apocynum) اور ایپس میں یہ فرق ہے کہ ایپوسائینم ٹھنڈے مزاج کی دوا ہے اور ایپس گرم مزاج کی۔چھوٹا بچہ اگر کپڑا لینا پسند نہ کرے اور ٹانگیں مار کر جلد کپڑا اتار دے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ گرمی پسند نہیں کرتا۔ایپوسہ ایپس کے مریض کی ایک نمایاں علامت یہ ہے کہ اس کی ورموں میں ٹیسوں کا احساس ضرور ہوتا ہے جیسے مکھی نے ڈنک مارا ہو۔ایپوسائینم میں ٹیسوں کا احساس نہیں ہوتا۔ایپس کے مریض کی ورم بعض دفعہ دماغ کی بیرونی جھلی میں بھی ظاہر ہوتی ہے اور اس کی بھی یہی خاص پہچان ہے کہ گرمی سے تکلیف میں اضافہ اور بہت تیز ٹیسیں پڑنے کا احساس۔بچہ جو اس تکلیف کو بیان نہیں کر سکتا وہ اچانک بڑے زور سے چیخ مارتا ہے اس لئے ڈاکٹر کا کام ہے کہ فوراً اس علامت کی طرف توجہ کرے اور ایپس دینے میں دیر نہ کرے۔ایپس دل کے پردوں پر بھی ایسا ہی اثر کرتی ہے۔پھیپھڑوں کے غلاف پر بھی اور جگر کے غلاف پر بھی۔گویا اس کا زیادہ تعلق عضلات سے بڑھ کر ان غلافوں سے ہے جن