ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 59 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 59

امونیم کارب 59 پا کر بستر وہیں پھینکا اور واپس اپنے گھر پہنچ کر خالی چار پائی پر دراز ہوگئی اور اگلے دن اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا۔نیند کی حالت میں بے چینی اور نیند کی کمی کا احساس سونے سے دور نہ ہو تو اس کی وجوہات معلوم کرنی چاہئیں کہ نیند کیوں بے چین کرتی ہے اور تکلیف کو کیوں بڑھا دیتی ہے۔اگر معین وجہ معلوم ہو جائے تو اس سے تعلق رکھنے والی دوا اس کی ساری بیماری پر اثر انداز ہوگی بشرطیکہ اس میں دیگر اہم علامتیں بھی پائی جاتی ہوں۔کانوں سے بد بودار مواد رسنے لگے تو امونیم کا رب ضرور ذہن میں آنی چاہئے۔کانوں کی مزمن بیماریوں میں یہ بہت مفید دوا ہے۔اس کی بو میں مردہ چیز کی عفونت پائی جاتی ہے کیونکہ اس کی بیماریوں میں نظام حیات درہم برہم ہو جاتا ہے اور اعضا کے ماؤف حصے تیزی سے مرنے لگتے ہیں۔کان کے اندر بھی اسی وجہ سے بد بودار پیپ بن کر جھلیوں کو کھانے لگتی ہے۔موت کے ساتھ عفونت وابستہ ہے۔یہ ایک خاص قسم کی بو ہوتی ہے جو دوسری عام بد بوؤں سے بہت ہی مختلف ہوتی ہے۔کان کے ایسے مریضوں میں مستقل علاج کے لئے امونیم کا رب کام آئے گی۔اگر اچانک شدید درد شروع ہو جائے اور مریض سخت بے چین ہو تو پلسٹیلا اللہ کے فضل سے فوری فائدہ پہنچاتی ہے بشرطیکہ اس کے مزاج میں نرمی پائی جاتی ہو اور رونے کی طرف رجحان ہو۔اگر کان کے درد کے ساتھ مزاج سخت برہم ہو جائے تو کیمومیلا کواولیت حاصل ہے اور اگر نزلہ کان کی طرف منتقل ہونے سے درد کا تعلق ہو تو ایلیم سیپا چوٹی کی دوا ہے۔خون کا دباؤ زیادہ نمایاں ہو اور درد کے ساتھ سرخی اور تمتما ہٹ بھی ہو تو پلسٹیلا کے ساتھ بیلا ڈونا30 بھی ملالینی چاہئے۔امونیم کارب غدودوں اور سلی امراض میں بھی بہت مفید ہے۔بعض اوقات گردن کے غدود سوج کر سخت ہو جاتے ہیں اور گلٹیاں بن جاتی ہیں۔دائمی سوزش امونیم کا رب کی خاص علامت ہے۔اس لئے یہ کینسر کی گلٹیوں میں بھی مفید ہے۔اگر جلدی بیماریاں علاج سے دبا دی جائیں اور وہ غدودوں میں پناہ لے لیں اور لمبے عرصہ تک ان کی