ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 58

58 امونیم کارب اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والی وریدوں کے نظام کو کہا جاتا ہے جن میں گندہ خون ہوتا ہے۔اگر اس نظام میں خرابی ہو اور سیاہ خون کا جریان ہو تو سلفر، ہیما میلس (Hamamelis) اور اس قسم کی اور دوائیں بھی حسب علامت کام آسکتی ہیں۔لیکن اگر انتڑیوں اور گردے وغیرہ جواب دے جائیں اور جہاں جہاں اندرونی جھلیاں ہیں وہاں سے سیاہ رنگ کا زہر یلا خون جاری ہو جائے تو یہ مختلف چیز ہے۔یہاں امونیم کا رب کو یا درکھنا ضروری ہے۔ایسے نازک اور تشویش ناک مرحلہ میں یہ سب سے اچھی دوا ثابت ہوتی ہے۔سانپوں کے کاٹے میں یہ عجیب بات پائی جاتی ہے کہ اس میں خون جمنے اور بہنے دونوں باتوں کا رجحان ہوتا ہے۔Orifices سے خون بہتا ہے یعنی ہر اس جگہ سے جہاں جلد اور اندرونی جھلیوں کا جوڑ ہے مثلاً ناخن اور جلد کا جوڑ ، ہونٹوں کے باہر کی جلد کے ساتھ اندر کی جلد کا جوڑ وغیرہ۔جلد اور جھلیوں کے جوڑ ایک طرح سے سلائی والی لکیر کے مشابہ ہوتے ہیں جہاں دو کنارے آپس میں ملتے ہیں۔پس جہاں کہیں بھی جلد اور جھلیوں کا جوڑ ہو وہاں سے خون رسنے کارجحان سانپوں کے زہروں میں نمایاں طور پر ملتا ہے اور یہی رجحان امونیم کا رب میں بھی ہے۔امونیا کارب کی مریض عورتوں میں ہسٹیر پائی علامت نمایاں ہوتی ہے اور لیکیس کی طرح سونے سے ان کی بیماریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔پرسوتی بخار اور بعض ایسے بخار جو زہریلے مادے پیدا کر کے دماغ پر اثر انداز ہو جاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں مریض کو عجیب و غریب ڈرواؤ نے خواب نظر آنے لگتے ہیں ، ان خوابوں سے بھی مرض کی پہچان ممکن ہے۔اگر خواب میں سانپ زیادہ نظر آئیں تو بیماری کا نیٹرم میور سے تعلق ہوتا ہے۔سانپ کا ز ہر تو لیکیسس ہوتا ہے نہ کہ نیٹرم میور۔سلیشیا میں بے چین کر دینے والے جو خواب آتے ہیں ان کی خاص علامت یہ ہے کہ مریض نیند کی حالت میں چلنے لگتا ہے اور بعض دفعہ لمبا عرصہ چلنے کے بعد واپس اپنے بستر پر پہنچ کر سو جاتا ہے۔ایک دفعہ سلیشیا کی ایک مریضہ سوتے میں اپنا بستر لپیٹ کر اٹھائے ہوئے دوسرے گھر پہنچی اور دروازہ بند