ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 856 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 856

انڈیکس تشخیص امراض (REPERTORY) 857 مطلب یہ ہے کہ مریض کی بیماری کا براہ راست غدہ قدامیہ یعنی پراسٹیٹ گلینڈ کے بڑھنے سے تعلق نہیں تھا بلکہ گردوں یا مثانہ یا پیشاب کی نالی میں کوئی نقص تھا جس کا دور کرنا تنہا کلیمیٹس کے بس میں نہیں۔پیشاب کی اس قسم کی بیماریوں میں بعض دیگر علامتیں بھی بہت توجہ کے لائق ہیں جو مختلف دواؤں کی نشاندہی کرتی ہیں مگر ضروری نہیں کہ ہر دوا مفید ثابت ہو۔یہی وجہ ہے کہ اصل دوا کی تلاش بہت مشکل کام ہے۔اس بیماری کی امتیازی علامتوں کا علم ضروری ہے ورنہ طبیب کے لئے ہر مرض کی دوا کی پہچان ناممکن ہوگی۔پیشاب سخت بدبودار ہو اور اس میں کچھ نہ کچھ گاڑھا مواد خارج ہوتا ہو تو یہ علامت خصوصیت کے ساتھ پیشاب کی نالی، گردے، مثانے اور فوطوں یا رحم کے اندر عفونت کی نشاندہی کرتی ہے۔اس لئے فوری طور پر عفونت کا علاج ہونا چاہئے اور جب تک مستقل عفونت کے نشان مٹ نہ جائیں علاج جاری رہنا چاہئے۔اس مرض میں نمایاں اثر کرنے والی دوائیں تھوجا (Thuja)،سلفر (Sulphur)، پائیر و جینیم (Pyrogenium)،سورائینم (Psorinum)، فیرم فاس (Ferr Phos) ، سلیشیا ( Silicea)، آرسینک البم (Arsenicum Album)، کو نیم (Conium)، کینا بس انڈیکا (Cannabis Indica)، فاسفورس (Phosphorus)، مرک کار (Merc Car) ، سیل سر ولا ٹا (Sebal Serrulata)، سٹیفی سیگریا (Staphysagria) ، اور چمافلا (Chimaphila) ہیں۔انہی دواؤں کے ذکر میں دیگر متعلقہ دوائیں مثلاً میڈ ورائینم (Medorrhinum) وغیرہ بھی مل جائیں گی۔