ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 836
انڈیکس تشخیص امراض (REPERTORY) 837 دو تکلیفوں کے بگڑنے سے ہوتا ہے۔فوراً صحیح علاج کیا جائے تو دمہ ہوتا ہی نہیں۔اگر تیز ایلو پیتھک دواؤں کے ذریعہ ان کا علاج ہو تو بسا اوقات یہ بیماریاں دمہ میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور ایسے مریض کو بار بارا اینٹی بائیوٹکس (Anti-Biotics) کی ضرورت پڑتی ہے اور بار بار دمہ کا حملہ ہوتا ہے۔ہومیو پیتھک طریق پر نزلے کے علاج کے لئے فوراً انفلوئیز نیم + بیبینم + د فتصیر بینیم + وسیلو کو سینم۔دو تین دن روزانہ ایک دفعہ دلائی جائیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے حملہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔گلے کی خرابی کے لئے چھوٹی طاقت یعنی 6x میں بالعموم حسب ذیل دوائیں فوری اثر دکھاتی ہیں جو گلے کی خرابی کے ساتھ ہونے والے بخار میں بھی بہت مفید ہیں۔فیرم فاس + کالی میور + کلکیر یا فلور +سلیشیا + کالی فاس اکثر بچوں میں یہ نسخہ کار آمد ثابت ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ کھٹی اور بہت ٹھنڈی چیزوں سے پر ہیز ضروری ہے خصوصاً کھٹے مشروبات اور کوکا کولا وغیرہ نقصان پہنچاتے ہیں۔اگر پھیپھڑوں کی خرابی کی بیماری اس دوا کے قابو میں نہ آئے اور گلا بدستور متورم رہے تو اس دوا کی بجائے تمہیں طاقت میں چیلی ڈونیم (Chelidonium) + کوکس کیکٹائی (Coccus Cacti) + ہیپر رسلف (Hepar Sulph) استعمال کروائی جائے تو اچھا نتیجہ دکھاتی ہے۔اگر دمہ کی تکلیف دل کی کمزوری سے تعلق رکھتی ہو تو اس میں سپونجیا (Spongia) اچھی دوا ثابت ہوتی ہے۔دل کی تکلیف سے جو دمہ ہواگر اس میں سپونجیا مفید ہو تو اس کی علامت یہ ہے کہ مریض کے سانس چلنے سے ایسی آواز آتی ہے جیسے لکڑی پر آرا چل رہا ہو۔دل کی کمزوری والے مریض کا علاج دل کی بیماریوں میں ڈھونڈنا چاہئے اور اس کے لئے دل کی بیماریوں کے باب کا مطالعہ کرنا چاہئے۔پھیپھڑے کے کینسر میں برائیونیا (Bryonia) اور فاسفورس (Phosphorus) کا ذکر گزرچکا ہے۔ایک دوا جو ہومیو پیتھک نہیں مگر ہو میو پیتھک علاج کو تقویت دیتی ہے وہ ہلدی ہے۔بارہا کے تجربہ سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ایک پیچی کا چوتھا حصہ ہلدی دودھ یا