ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 789
سلفیورک ایسڈ 789 چلنے والی دکھائی دیتی ہیں وہ بسا اوقات عارضی اثرات رکھتی ہیں اور دائمی بداثرات چھوڑے بغیر ختم ہو جاتی ہیں۔سلفیورک ایسڈ کے مریض کے اخراجات میں تیزابیت پائی جاتی ہے اور کاٹنے والے مادے نکلتے ہیں۔اگر جسم میں تیز اب زیادہ ہو جائے تو بعض دفعہ کھانا کھاتے ہوئے سخت کمزوری کا احساس ہوتا ہے اور مریض پسینہ پسینہ ہو جاتا ہے۔کھانے سے بھی تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔جسم میں برقی کوندے ایک طرف سے دوسری طرف لپکتے ہیں۔بعض مریض ان سے لطف محسوس کرتے ہیں۔یہ سلفیورک ایسڈ کی خاص علامت ہے۔اس میں سردرد اور دوسری درد میں آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں اور ایک دم ختم ہو جاتی ہیں۔شنوائی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے لیکن ایک دم واپس نہیں آتی۔شنوائی کے معاملہ میں سلفیورک ایسڈ کا مزاج اپنے عام مزاج سے مختلف ہے۔درد، پیپ اور بد بو وغیرہ کے ٹھیک ہونے کے بعد بہت آہستہ آہستہ لمبے عرصے میں شنوائی واپس آتی ہے۔بعض اوقات ناک کی رطوبت کان کی طرف منتقل ہونے سے قوت شامہ میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔اگر دیگر علامتیں ملتی ہوں تو یہ تکلیف بھی سلفیورک ایسڈ کے دائرہ کار میں ہے۔اس میں دانتوں کا درد آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور بہت شدید ہو جاتا ہے لیکن ایک دم ختم بھی ہو جاتا ہے اور لمبا گہرا بداثر پیچھے نہیں چھوڑتا۔منہ اور گلے میں زخم بن جاتے ہیں۔سلفیورک ایسڈ ایسے مریضوں کے لئے بہت مفید ہے اور ان بچوں کی بھی بہترین دوا ہے جو منہ کے زخموں کی وجہ سے دودھ نہیں پی سکتے۔تیزابی اثرات کی وجہ سے معدہ جواب دے جاتا ہے۔سلفیورک ایسڈ کے مریض کا سانس بہت بد بودار ہوتا ہے اس میں کھٹاس نمایاں ہوتی ہے۔بعض لوگوں کو تیزابی چیزیں کھانے سے نبض ہو جاتی ہے لیکن سلفیورک ایسڈ کے مریض کو تیزابی چیزیں کھانے سے اسہال لگ جاتے ہیں۔آؤیسٹر (Oyster) کھانے سے بھی جو ایک سمندری گھونگا ہے اور کچا اور کھٹا پھل کھانے سے بھی اسہال شروع ہو جاتے ہیں۔ایسے مریضوں کے پیٹ درد کے دردوں میں یہی دوا مفید ثابت ہوتی ہے۔اگر عورتوں کو حیض کے دوران ڈراؤنی خوابیں آنے لگیں تو اس مرض کی اور