ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 790 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 790

سلفیورک ایسڈ 790 دواؤں کے علاوہ سلفیورک ایسڈ بھی زیر نظر رہنی چاہئے۔(تفصیلی بحث کے لئے دیکھیں آرنیکا اور آرسنک) اگر حیض کی زیادتی کی وجہ سے کسی عورت کو حمل نہ ٹھہرے تو سلفیورک ایسڈ اس کی دوا ہوسکتی ہے بشرطیکہ عمومی مزاج ملتا ہو۔دراصل بانجھ پن کی بے شمار وجوہات ہیں اور صحیح دوا کے انتخاب کے لئے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔حسب ذیل چند دواؤں میں یہ مضمون نسبتا تفصیل سے بیان ہوا ہے۔پلسٹیلا ،کولوفائیلم ، سبائنا، کلکیریا کارب ، اشوکا اور گوسپیم (Gossypium)۔سلفیورک ایسڈ میں کمر کی کمزوری کا احساس رہتا ہے اور مریض کا دل لیٹنے کو چاہتا ہے۔کھڑا ہونا اور بیٹھنا مشکل ہوتا ہے۔ہلکا چلنے سے آرام محسوس ہوتا ہے۔صبح کے وقت پسینہ آتا ہے جو عمو ماسلی مادہ کی موجودگی کی وجہ سے ہوتا ہے۔سلفیورک ایسڈ شراب کی پرانی عادت توڑنے کی بہترین دوا ہے اور یورپ میں ایسے بہت سے مریض ملتے ہیں جن کو شراب کا جنون ہو جاتا ہے اور بالآخر یہ ان کی ہلاکت کا موجب بن جاتی ہے۔ایسے مریضوں کا بہترین علاج سلفیورک ایسڈ ہے جو بعض دفعہ جادو کا سا اثر دکھاتا ہے۔ایک بڑے گلاس پانی میں خالص سلفیورک ایسڈ کا ایک قطرہ ملا دینا چاہئے۔اس پانی کو دن بھر تین خوراکوں میں ختم کر دینا چاہئے۔بعض مریضوں پر جن کو تمام دوسرے معالجین نے قطعاً لا علاج قرار دے دیا تھا یہ نسخہ استعمال کیا گیا تو ایک ہفتے کے اندراندران کی کایا پلٹ گئی اور شراب کو ہاتھ لگانے کو بھی دل نہیں کرتا تھا۔دنیائے طب میں غالبا اس مرض کی اس سے بہتر کوئی دوا نہیں۔مددگار دوا پلسٹیلا طاقت: مد نکچر (Q) کی صورت میں دی جاسکتی ہے۔