ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 780
سلفر 780 چھوڑ دے تو تھوڑی دیر کے لئے وہ دوا بند کر کے سلفر استعمال کروائیں تو پہلی دوا دوبارہ کام شروع کر دے گی۔سلفر کے مثالی مریض کا مزاج لا ابالی ہوتا ہے اور اس کی عادات میں بے ترتیبی پائی جاتی ہے۔وہ نہانے سے نفرت کرتا ہے۔اس پہلو سے اس کا مزاج او پیم سے ملتا ہے۔افیمی کو بھی نہانے سے نفرت ہوتی ہے۔سلفر کا مثالی مریض سخت گندہ ہوتا ہے ، جسم سے بدبو آتی ہے اور بغلوں اور پاؤں میں بدبودار پسینہ آتا ہے۔صفائی کو قطعاً کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس کی طبیعت میں ایک عجیب تضاد ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ خود بد بودار ہوتا ہے، اس کی بغلیں ، پاؤں اور سانس سب متعفن ہوتے ہیں لیکن وہ غیروں کی بو برداشت نہیں کرسکتا۔اگر وہ اپنی ہی بو میں بسا ر ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن دوسروں کی بو سے سخت بری لگتی ہے۔دراصل بنیادی طور پر یہ بات حیوانوں کی فطرت میں ودیعت ہے۔جانوروں کو بھی اپنی بو بری نہیں لگتی۔شیر کے بھٹ کے پاس سے گزریں تو خطرناک بو آتی ہے لیکن شیر کو اچھی لگتی ہے۔اسے آدمی سے بو آتی ہے۔اس لحاظ سے یہ بات تعجب انگیز ضرور ہے لیکن فطرت کے خلاف نہیں۔شاذ کے طور پر سلفر کا مریض خود اپنی بو سے بھی بیزار ہو جاتا ہے اور اسے قے شروع ہو جاتی ہے۔سلفر کے مریض جب تک چلتے پھرتے رہیں ٹھیک رہتے ہیں لیکن جو نہی بستر میں لیٹ کر گرم ہوں ان کی بہت سی بیماریاں عود کر آتی ہیں۔یہ بات سلفر کے علاوہ مرکزی میں بھی پائی جاتی ہے اور ان دونوں کے بنیادی مزاج میں داخل ہے۔گرمی اور سردی دونوں کے مضر ہونے کے لحاظ سے یہ دونوں دوائیں مشابہت رکھتی ہیں لیکن بعض ایسی علامات بھی ہیں جو ان دونوں میں تمیز کر دیتی ہیں۔مثلاً سلفر کے مریض کا منہ عموماً معتدل یا خشک ہوتا ہے لیکن مرکزی کے مریض کا منہ لعاب سے بھرا رہتا ہے۔سلفر کی بو انسان کے عام اخراجات کی بو جیسی ہوتی ہے خواہ کتنی سخت ہی کیوں نہ ہو۔اس کے اخراجات جلد کو چھیلتے ہیں۔عورتوں کے لیکوریا میں بھی جو مرکزی یا سلفر کی مریضا ئیں ہوں یہی علامت پائی جاتی ہے۔