ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 753
سليشيا 753 سے ڈاکٹر کو بر وقت خطرہ بھانپ لینا چاہئے۔چھوٹی طاقت نسبتا نرمی اور آہستگی سے کام کرتی ہے۔اس لئے عموماً کسی شدید ردعمل کا خطرہ پیدا ہی نہیں ہوتا۔ڈاکٹر کینٹ کا کہنا ہے کہ سلیشیا تپ دق کے مریضوں کے لئے بہت اونچی یا بہت چھوٹی طاقت میں یکساں خطرناک ہے اس لئے حتی المقدور دوسری مددگار دواؤں سے کام لینا چاہئے۔اگر مجبوری ہو تو 30 طاقت میں دے کر دیکھا جائے یہ نہ بہت اونچی طاقت ہے نہ بہت نیچی۔سلیشیا کا بعض دواؤں سے تضاد ہے اس لئے اسے ان کے ساتھ ملانا نہیں چاہئے۔مثلاً پاره یعنی مرکزی کی ہر شکل سلیشیا سے متصادم ہے۔ان دونوں کو ایک ساتھ استعمال نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان دونوں کے درمیان ہیپر سلف دینی ضروری ہوتی ہے کیونکہ اس کی بہت سی علامتیں سلیشیا سے ملتی ہیں اور یہ مرکسال سے بھی موافقت رکھتی ہے۔اس لئے ہسپر سلف ان دونوں دواؤں کے درمیان ایک پل سا بنا دیتی ہے۔بعض دفعہ سلیشیا کا غیر متوقع اثر ظاہر ہوتا ہے۔مثلاً اگر کسی کے دانت کی جڑوں میں انفیکشن موجود ہو جس کا اسے علم نہ ہو اور ایسا مریض کسی اور بیماری کے لئے سلیشیا استعمال کرے تو اچانک خراب دانت کے گرد جبڑے سوج جائیں گے اور دانت ہلنے لگے گا۔ایسی صورت میں اگر وہ سلیشیا کے تریاق کے طور پر ہسپر سلف کھالے تو در دکو فورا آرام آ جائے گا اور اسے یہ علم بھی ہو چکا ہوگا کہ فلاں جگہ انفیکشن موجود ہے۔پھر حسب ضرورت کوئی اور بالمثل دوا دی جاسکتی ہے جو تکلیف دہ رد عمل کے بغیر دانت کو ٹھیک کر دے۔سلیشیا کی ایک عمومی علامت یہ ہے کہ مریض کو بہت سردی لگتی ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں۔یہ ایسی علامت ہے کہ جو بعض اوقات صحیح دوا تک پہنچنے کی راہ میں بھی حائل ہو جاتی ہے کیونکہ وہ مریض جنہیں تعفنی بخار ہوں ان کے ہاتھ پاؤں بعض دفعہ بہت گرم ہوتے ہیں اور کئی ڈاکٹر اس علامت کے پیش نظر انہیں سلیشیا کی بجائے پلسٹیلا دیتے رہتے ہیں جو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچاتی۔سلیشیا کی پہچان یہ ہے کہ بخار چڑھنے سے پہلے سردی کی وجہ سے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں لیکن بخار چڑھنے کے بعد پلسٹیلا کی علامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔یاد رکھیں کہ سلیشیا پلسٹیلا کی مزمن (Chronic) دوا ہے۔