ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 754 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 754

سليشيا 754 کئی دفعہ مریض بخار میں جل رہے ہوتے ہیں اور ان کے ہاتھ پاؤں بھی گرم ہوتے ہیں لیکن انہیں پلسٹیلا کی بجائے سلیشیا کی ضرورت ہے اور سلیشیا ہی فائدہ دیتی ہے۔عموماً ٹانسلز کی انفیکشن میں ایسا ہوتا ہے اور بعض بچے ایسے ڈاکٹروں کے ہاتھوں چند دن کے اندرمر جاتے ہیں کیونکہ دراصل وہ سلیشیا کا تقاضا کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں مسلسل پلسٹیلا ہی دی جاتی ہے یہاں تک کہ بیماری قابو سے نکل جاتی ہے۔سلیشیا کے مریض کو یہ خوف رہتا ہے کہ میں جو کام کروں گا یا جو امتحان بھی دوں گا اس میں ناکام ہو جاؤں گا۔خصوصاً سکول کے بچے اس ناکامی کے احساس میں مبتلا رہتے ہیں۔مثلاً بعض لوگ دل میں بیٹھے ہوئے خوف کی وجہ سے ڈرائیونگ کے امتحان میں بار بارنا کام ہوتے ہیں حالانکہ انہیں اچھی بھلی ڈرائیونگ آتی ہے۔ایسا خوف چونکہ بعض دوسری دواؤں میں بہت نمایاں طور پر بیان ہوا ہے اس لئے سلیشیا کا خیال ہی نہیں آتا۔ایسے مریضوں کو اگر سلیشیا 6x کے ساتھ کالی فاس ملا کر دی جائے تو بعض دفعہ تعجب انگیز فائدہ پہنچتا ہے۔۔مختلف قسم کے زخم اور السر مندمل نہ ہوں تو مستقل ناسور بن جاتے ہیں۔اگر سلیشیا کی اور علامتیں ملتی ہوں تو یہ ان زخموں کو نیم خوابیدہ حالت سے نکال کر مستعد کر دیتی ہے اور انہیں ابھار کر پیپ بناتی ہے۔جب وہ بہہ جائے تو زخم بالکل خشک ہو کر معمولی سانشان باقی رہ جاتا ہے۔اگر عورتوں کے جسم میں غدود بڑھ جائیں تو ان کے خلاف بھی سلیشیا بہت مفید دوا ہے۔جلد پر ظاہر ہونے والی عمومی تکلیفیں مثلاً زہر یلے دانوں، چھالوں اور پھوڑوں وغیرہ میں سلیشیا کا بہت اچھا اثر ہے۔جن لڑکیوں اور لڑکوں کے چہرے پر آغاز جوانی میں کیل نکل آتے ہیں اور بہت بدنما دکھائی دیتے ہیں، انہیں 30 طاقت میں کالی بر و ٹیٹم کے ساتھ سلیشیا ملا کر دینے سے بسا اوقات نمایاں فائدہ ہوتا ہے اور بہت ضدی قسم کے کیل بھی پیچھا چھوڑ جاتے ہیں۔لیکن ان دونوں کو کم از کم ایک ماہ تک استعمال کرنا چاہئے۔بعد ازاں بھی وقفے وقفے کے ساتھ حسب ضرورت دہرانا چاہئے۔