ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 752 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 752

سليشيا 752 کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی کیونکہ ایسے کیڑے کو سرجری کے ذریعہ باہر نکالنے کی کوشش کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اگر یہ پورا نکلنے کی بجائے کہیں سے ٹوٹ جائے جس کا غالب احتمال ہوتا ہے یا غلط چاقو لگنے سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے تو خون کے ذریعہ جہاں جہاں یہ ٹکڑے پھیلیں گے اس کا ہر ٹکڑا بہت تیزی سے بڑھنے لگتا ہے اور انتہائی مہلک ثابت ہوتا ہے۔افریقہ میں اس کیڑے کے بعض ماہر معالجین اسے کانٹے پر لپیٹتے ہیں۔یہ سینکڑوں فٹ تک لمبا ہوتا ہے۔اگر درمیان میں ٹوٹ جائے تو ساری محنت اکارت جاتی ہے۔سندھ ہو یا افریقہ، سلیشیا ہر جگہ یکساں کارروائی کرتی ہے اور اس کیڑے کو پگھلا کر زخم کا چھوٹا سا سوراخ بنا کر اس کا مواد باہر نکال دیتی ہے۔بعض اوقات مچھلی کا ٹیڑھا کانٹا گلے میں پھنس جاتا ہے جو نکلتا ہی نہیں۔ایک دفعہ مجھے بھی ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔جب باوجود کوشش کے کا نشانہ نکل سکا تو میں نے سلیشیا x 6 کھالی۔چند گھنٹوں کے بعد ہلکی سی کھانسی کے ساتھ کانٹا خود بخود باہر آ گیا۔بعض بچوں پر بھی یہ تجربہ کر کے دیکھا ہے۔الا ماشاءاللہ ،سلیشیا ہمیشہ کار آمد ثابت ہوتی ہے۔اونچی طاقت میں سلیشیا دینے سے بڑے بڑے پھوڑوں کا مواد خود بخود خشک ہونے لگتا ہے اور وہ اندر ہی اندر سکڑ کر ختم ہو جاتے ہیں۔پیپ بن کر بہتی نہیں ہے لیکن اس کے برعکس بعض صورتوں میں پیپ بھی بنتی ہے۔سلیشیا کے اس دہرے اثر کو سمجھنا چاہئے۔عموماً جسمانی نظام دفاع یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ حسب موقع کیا ردعمل دکھائے۔سلیشیا عموماً اونچی طاقت میں سل کے مادوں کو باہر نکلنے کا حکم دیتی ہے اور ان مادوں کے گرد پیپ بنانے کے عمل کو تیز کر دیتی ہے لیکن ان مادوں کو پگھلا نہیں سکتی۔اگر وہ ایسی جگہ ڈیرا ڈالے ہوئے ہوں مثلاً پھیپھڑوں میں خون کی کسی شریان کے بالکل ساتھ ہوں تو سلیشیا کے پیپ بنانے کے عمل کے ساتھ وہ شریان بھی پھٹ جائے گی اور اس تیزی کے ساتھ خون بہے گا کہ اس مریض کی زندگی کو بھی بہالے جائے گا۔6x اور 30 طاقت میں سلیشیا دی جائے تو پیشتر اس کے کہ شریا نہیں پھٹنے لگیں مریض کے رد عمل