ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 728 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 728

سبائنا 728 نہیں ہوتا۔صرف بے چینی ہوتی ہے۔یہ علامت کینتھرس میں بھی پائی جاتی ہے۔مردوں اور عورتوں دونوں کے اخراجات سوزا کی بیماریوں (Gonorrhoeal) کی طرز کے ہوں تو سبائنا کی ضرورت محسوس ہو گی۔سوزاک کی باقاعدہ تکلیف نہ بھی ہو اور مریض بظاہر بالکل ٹھیک ٹھاک ہو لیکن اگر اخراجات سوزاک کی علامات رکھتے ہوں تو ان میں سبائنا بہت مؤثر دوا ہے۔سبائنا کی ایک علامت یہ ہے کہ حمل نہ بھی ہو تو رحم میں دردزہ کی طرح در داٹھتے ہیں جو بچہ کی پیدائش کے وقت سے تعلق رکھتے ہیں۔رحم میں حرکت اور نیچے کی طرف دباؤ ہوتا ہے۔اگر واقعی حمل ہو تو پھر ایسے در دحمل ضائع ہونے کا موجب بن جاتے ہیں۔سبائنا کی ایک خاص علامت حیض کے ایام کا لمبا ہونا اور بہت زیادہ خون بہنا ہے۔بعض دفعہ یہ دور اتنا لمبا ہو جاتا ہے کہ ایک حیض دوسرے حیض سے ملنے لگتا ہے۔درمیانی وقفہ بہت کم رہ جاتا ہے۔سرخ چمکدار خون بہتا ہے جس کی وجہ سے مریضہ عموماً خون کی کمی کا شکار ہو جاتی ہے اور اس کے خون کی رنگت بھی گلابی ہو جاتی ہے۔رحم میں شدید درد کی لہریں اٹھتی ہیں۔ان دردوں کا جنسی اعضاء کی خارش سے بھی تعلق ہوتا ہے۔اگر جنسی اعضاء میں خارش ہو اور درد رحم کی طرف منتقل ہو تو سبائنا اس کا علاج ہے۔یہ درد ایک مقام پر نہیں ٹھہرتے ، ان کی حرکت نیچے یا اوپر کی طرف مسلسل جاری رہتی ہے۔اکثر تجربہ کار ڈاکٹروں نے لکھا ہے کہ سبائنا اسقاط کے رجحان کو روکنے کے لئے حفظ ما تقدم کے طور پر بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔میرے نزدیک کولو فائیلم (Caulophyllum) بھی بہت مؤثر ہے۔(دیکھئے باب کولو فائیلم ) حیض کے طویل ایام، رحم کی اندرونی تکالیف اور رسولیوں کے رجحان کو ختم کرنے کے لئے سبائنا کے ساتھ کلکیریا کارب اور میوریکس ملا کر دی جائیں تو یہ نسخہ بھی بہت مؤثر ہے۔یہ اسقاط کے رجحان کو بھی ختم کرتا ہے۔اگر حمل کے دوران رحم کی بیرونی جھلی پھٹ جائے اور جنین کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو بعض دفعہ فوری طور پر سبائنا دینے سے یہ خطرہ ٹل جاتا ہے۔