ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 708
رسٹاکس 708 فالجی اثرات میں اعلیٰ درجے کی دوا ہے۔جو فالج زیادہ تر دائیں طرف کے اعضاء پر حملہ آور ہوں رسٹاکس اور سلفر باری باری دینے سے بالکل ٹھیک ہو جاتے ہیں۔اگر زیادہ علامتیں نہ بھی ملتی ہوں پھر بھی کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور پہنچا دیتی ہیں۔اگر سخت تھکاوٹ یا مسلسل بڑھتے ہوئے اعصابی دباؤ کی وجہ سے ایک آنکھ کی نظر اچانک ختم ہو رہی ہو اور دل پر بھی کمزوری کا اثر ہوتو رسٹاکس کی ایک دوخوراکیں فوراً فائدہ پہنچاتی ہیں۔ایسی صورت میں عموماً دائیں آنکھ کے سامنے سائے سے تھر کتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں یا دائیں طرف کی آدھی نظر ختم ہو جاتی ہے۔اعصابی دردوں میں جن میں آرام کرنے سے تکلیف بڑھے اور حرکت سے آرام آئے ، یہ بہت مفید ہے۔چونکہ جلن کا احساس بہت ہوتا ہے اس لئے آرام نہیں کیا جاتا اور اضطرابی کیفیت طاری رہتی ہے اور کسی کروٹ بھی چین نہیں آتا۔حرکت سے شروع میں تکلیف بڑھتی ہے لیکن رفتہ رفتہ آرام آنا شروع ہو جاتا ہے مگر کچھ عرصہ بعد دردیں واپس آ جاتی ہیں۔نرم حرکت جو آہستہ آہستہ کی جائے، جسم کی دردوں میں کمی کا موجب بنتی ہے۔سخت ورزش اس کا علاج نہیں بلکہ خطر ناک ہے۔ہلکی ورزش اور ہلکی حرکت مفید ہے۔اگر علامتیں ملتی ہوں تو رسٹاکس سر درد اور دوسری جسمانی دردوں کے لئے بھی بہت اچھی دوا ہے۔رسٹاکس جب بھی بالمثل دوا ہو گی اس کے کھاتے ہی ضرور گہری نیند آ جائے گی اور گھبراہٹ اور بے چینی کا نام ونشان باقی نہیں رہے گا۔میرے تجر بہ میں بارہا اس کا یہ اثر دیکھنے میں آیا ہے۔بعض مریضوں نے تو شکایت کی کہ رات کا پتہ ہی نہیں چلا اور سورج چڑھنے کے بعد آنکھ کھلی حالانکہ قبل ازیں ان کی رات کروٹیں بدلتے گزرا کرتی تھی۔رسٹاکس میں ایک اور علامت یہ بھی ہے کہ مثانے یا گردے میں ہلکی سوزش مزمن صورت اختیار کرلے تو مریض رات کو بار بار پیشاب کے لئے اٹھتا ہے۔اس کی نیند خراب ہو جاتی ہے اور وہ بے چین رہتا ہے ، ضروری نہیں کہ ایسے مریض کو ذیا بیٹس