ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 707
رسٹاکس 707 707 رس ٹاکسی کو ڈینڈران ( رسٹاکس ) RHUS TOXICODENDRON (Poison-ivy) یہ دوار ٹاکس کے مختصر نام سے زیادہ مشہور ہے۔یہ بچھو بوٹی نام کے ایک جنگلی پودے کے پتوں سے تیار کی جاتی ہے۔جس کے زہر سے نہایت خطرناک قسم کی خارش شروع ہو جاتی ہے۔شدید بخار ہوتا ہے، بھوک ختم ہو جاتی ہے، متلی اور سخت سر درد، غدود سوج جاتے ہیں اور منہ اور زبان پر زخم بن جاتے ہیں۔1798ء میں ایک فرانسیسی ڈاکٹر نے مشاہدہ کیا کہ ایک مریض کی شدید جلدی تکلیف اس زہر کے اثر سے دور ہو گئی۔اس کے بعد اس ڈاکٹر نے اس بوٹی کو بہت سی اور جلدی امراض، فالج اور جوڑوں کے درد میں استعمال کیا اور اسے بہت مفید پایا۔ہومیو پیتھی طریقہ علاج میں مرطوب موسم میں اس بوٹی کے تازہ پتوں کو پیس کر دوا تیار کی جاتی ہے۔رسٹاکس ایک ایسی دوا ہے جس کے بغیر ہومیو پیتھک ڈاکٹروں کا گزارا مشکل ہے۔یہ بکثرت بیماریوں میں استعمال ہوتی ہے۔رسٹاکس کی سب سے اہم علامت جلن اور سوزش ہے جس کے نتیجہ میں بڑے بڑے چھالے بنتے ہیں۔جلدی بیماریوں میں سب سے بڑا چھالا رسٹاکس میں پایا جاتا ہے۔اینا کارڈیم (Anacardium) اور میتھرس (Cantharis) میں بھی چھالے ہوتے ہیں لیکن نسبتا کم۔رسٹاکس جل جانے والے مریضوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچاتی ہے۔انہیں اونچی طاقت میں فوراً رسٹاکس دینا بہت مفید ہوتا ہے۔اس کے علاوہ رسٹاکس ہر قسم کے