ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 693 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 693

پلسٹیلا 693 سخت ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ہلکا ہلکا درد بھی رہتا ہے۔ایسی تکلیف میں پلسٹیلا سے فائدہ ہوگا۔اس میں نزلاتی اخراجات ابتدا میں سفید ہوتے ہیں لیکن جلد ہی زردی مائل اور بد بودار بھی ہو جاتے ہیں۔قوت شامہ کم ہو جاتی ہے یا بالکل ختم ہو جاتی ہے۔صبح کے وقت بلغمی کھانسی ہوتی ہے جو شام تک بالکل خشک کھانسی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔نزلے کا پرانار جمان ہو تو نکسیر بھی پھوٹتی ہے۔تکمیر کا حیض سے بھی تعلق ہوتا ہے۔اگر حیض رک جائے اور نکسیر آئے تو پلسٹیلا کی بجائے برائیو نیا دوا ہوگی۔اگر حیض جاری رہتے ہوئے نکسیر آئے تو پلسٹیلا دوا ہے۔پلسٹیلا میں شام کو الرجی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے لیکن نیٹرم میور میں اس سے بالکل برعکس صبح کے وقت خصوصا نو بجے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔اگر سردی سے گرم کمرے میں آنے سے چھینکیں آئیں تو اس کی دوا پلسٹیلا ہے۔اگر گرمی سے سردی میں جانے سے چھینکیں آئیں تو سباڈیلا ،سلیشیایا نیٹرم میور استعمال کرنی چاہئیں۔پلسٹیلا کے مریض کی نیند اڑ جاتی ہے اور وہ سونے میں دقت محسوس کرتا ہے۔اسے سانس کی تنگی اور تھکن کا احساس رہتا ہے۔اگر صحیح علاج نہ ہوتو دمہ ہو جاتا ہے۔اگر الرجی دمہ میں تبدیل ہو جائے تو پلسٹیلا بھی اسے ٹھیک کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔سلیشیا پر کی مزمن دوا ہے۔اگر پلسٹیلا سے بخار نہ ٹوٹ رہا ہو اور طبیعت میں گرمی کا احساس ہو، اسی طرح انفیکشن کی تکلیفیں پلسٹیلا سے قابو نہ آئیں حالانکہ علامتیں پلسٹیلا سے ملتی ہوں تو سلیشیا دیں۔یہ اکثر کام کرتی ہے۔یہ میرا تجربہ ہے۔پہلے میں سلیشیا نہیں دیتا تھا لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ مزمن ہونے کا یہ بھی تعلق ہو سکتا ہے کہ پلسٹیلا اپنی علامتوں کے باوجود کام نہ کرتی ہو اور نا کام ہو جائے وہاں سلیشیا کام شروع کر دے۔واقعتا یہ بات درست ثابت ہوئی۔پلسٹیلا کن پیروں (Mumps) کی بھی بہترین دوا ہے اور یہ بیماری کو دوسری جگہ منتقل نہیں ہونے دیتی۔صحیح علاج نہ کیا جائے تو بیماری منتقل ہو کر آلات تناسل پر اثر انداز