ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 692 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 692

پلسٹیلا 692 کئے بغیر حیض جاری نہیں کرے گی۔اگر خون کی کمی نہ بھی ہو اور سیاہی مائل اور تھوڑا تھوڑا خون آئے تو اس کا فوری تدارک پلسٹیلا سے کیا جاتا ہے۔پلسٹیلا میں کمر اور کندھوں میں درد ہوتا ہے۔سخت چیز سے دبانے سے درد کی شدت میں کمی آتی ہے۔اسی طرح سخت چیز پر سونے سے بھی آرام ملتا ہے۔پلسٹیلا کا سر درد در دشقیقہ سے مشابہت رکھتا ہے۔عموماً ایک طرف ہوتا ہے۔کنپٹیوں میں اندر کی طرف جاتا ہے اور چہرہ کی ایک ہی طرف محسوس ہوتا ہے۔اس دوا کی ایک خاص علامت یہ ہے کہ جسم کی ایک طرف گرم اور ایک طرف ٹھنڈی ہوتی ہے۔یہ گرمی سردی کا فرق ہاتھ لگانے سے بھی محسوس ہوتا ہے۔چہرہ ایک طرف سے تمتمایا ہوا اور دوسری طرف سے ٹھنڈا اور زرد گویا خون نہیں رہا۔یہ ایک ایسی نمایاں علامت ہے جس کے نتیجہ میں پلسٹیلا کی پہچان مشکل نہیں رہتی۔اس لئے سردرد کی دوسری علامتوں کے علاوہ یہ علامت بھی رہنما ہو سکتی ہے۔لیکن ضروری نہیں کہ ہر درد میں یہ علامت موجود ہو۔اگر یہ علامت نہ بھی ہو پھر بھی دیگر بالمثل علامتیں ملنے سے پلسٹیلا کام آسکتی ہے۔پلسٹیلا میں آنکھوں کی علامتیں بہت نمایاں ہیں۔گوہانجنیاں بہت نکلتی ہیں۔پلسٹیلا ان کا اچھا علاج ہے۔آنکھوں سے گاڑھا مواد نکلتا ہے، پلکیں متورم اور چپکی ہوئی ، چھوٹے بچوں میں آشوب چشم ، آنکھوں کے پردے کی سوزش اور ناک اور گلے کی علامتیں نیٹرم میور سے ملتی ہیں۔نیٹرم میور پلسٹیلا کی مزمن دوا ہے یعنی اگر مستقل طور پر پلسٹیلا کی علامتیں موجود ہوں لیکن اس دوا سے فائدہ نہ ہو تو نیٹرم میوردینی چاہئے۔پلسٹیلا کانوں کی بھی بہترین دوا ہے۔کانوں کی انفیکشن ہو یا کانوں سے بد بودار گاڑھا مواد نکلے اور اونچا سنائی دے تو یہ مفید ہے۔نزلاتی اثرات کان میں منتقل ہوں تو پلسٹیلا کے مریض کی طبیعت میں نرمی اور درد کے ساتھ رونے کا رجحان غالب ہوتا ہے جس میں عجب بے چارگی اور بے بسی کا اظہار ہوتا ہے۔لیکن اگر کان کے درد کے ساتھ غصہ پایا جائے تو پلسٹیلا کی بجائے کیمو میلا دینی چاہئے۔پرانے نزلہ کے ساتھ ناک کی اندرونی نالی میں خشکی کا احساس ہوتا ہے۔مواد جم کر