ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 678
678 کا سٹیکھ (Causticum) اول دوا ہے۔اپریشن کے بعد یہ کیفیت ہو تو سٹر نشیم کارب (Strontium Carb) دوا ہوگی۔پلم بھی مفید ہو سکتی ہے۔اگر اچانک صدمہ پہنچنے۔گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہو تو پلم ان میں دوبارہ حرکت پیدا کر دیتی ہے۔ہلم کی ایک علامت یہ ہے کہ جو چیز کھائی جائے وہ معدہ میں جا کر کھٹاس میں تبدیل ہو جاتی ہے اور شدید الٹیاں آتی ہیں۔معدہ میں موجود لعابوں اور رطوبتوں کے اثر سے کھا نا عموماً تین گھنٹے کے اندر اندر ہضم ہو کر انتڑیوں میں منتقل ہو جانا چاہئے۔اگر معدہ اس عرصہ میں خوراک کو باہر نہ نکالے تو خوراک معدہ میں ہی گلنے سڑنے لگتی ہے۔اس سے تیزابیت پیدا ہوتی ہے اور گندے بدبودار ڈکار آنے لگتے ہیں۔انتڑیوں کی حرکت کا نظام ست پڑ جائے تو معدہ میں کھٹاس پیدا ہوتی ہے۔اگر یہ سٹی قائمی اثرات کی وجہ سے ہو تو ٹالہم بہترین دوا ہے۔ہلم میں سیاہی مائل الٹیاں آتی ہیں یا سبز رنگ کا مواد نکلتا ہے جس میں بعض دفعہ خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔جگر اور معدے کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔معدہ میں بوجھ اور گھٹن کا احساس ہوتا ہے۔ناف اندر کمر کی طرف کھینچتی ہے۔Progressive Muscular Dystrophy یعنی آہستہ آہستہ بڑھنے والی عضلاتی کمزوری اور آہستہ آہستہ بڑھنے والے فالج میں پلمبم کو اچھی شہرت ہے۔دو تین قسم کی دوائیں ایسی بیماریوں میں کام آ سکتی ہیں۔اوپیم اور کالی فاس بھی مفید ہیں۔کالی فاس کو آہستہ آہستہ اونچی طاقت میں بڑھا کر دینا چاہئے۔Progressive Muscular Dystrophy میں دماغ کے مرکزی حصہ میں وہ خلیے مرنے لگتے ہیں جو عضلات اور ان کی حرکت کی صلاحیت کو کنٹرول کرتے ہیں۔اس بیماری کا کوئی شافی علاج نہیں ہے۔ایسے مریض آہستہ آہستہ کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں اور اکثر جوانی کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی وفات پا جاتے ہیں۔اگر وہ زندہ بھی رہیں تو سخت کرب ناک زندگی گزارتے ہیں۔چونکہ یہ بیماری موروثی طور پر خون میں شامل ہوتی ہے اس لئے بعض دفعہ سب بچے اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔اس کے علاج میں قطعی کامیابی کبھی