ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 31
ایگیریکس 31 اور اس کا نفسیاتی علاج بھی ضروری ہے۔عموماً سٹرامونیم کو گہرے اعصابی خوف سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن لکنت یا ہکلانے کے مرض میں اس کا نمایاں فائدہ مشاہدہ میں نہیں آیا ہے۔اس لئے بیماری کی اصل وجہ کو پیش نظر رکھ کر دوا استعمال کرنی چاہئے۔ایکیر ٹیکس بھی لکنت میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ایگیر یکس میں انتقال مرض کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔بعض دفعہ عورتوں میں بچوں کو دودھ پلانے کے زمانے میں کسی حادثے ، صدمہ یا ذہنی دباؤ کی وجہ سے دودھ خشک ہو جاتا ہے اور اس کا دماغ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ایسے موقع پر ایگیر یکیس فائدہ مند ہے۔اگر عورت کا دودھ کم اُترے یا خشک ہو جائے اور اس دوران دماغ پر حملہ ہو تو اس کی دوا ایگیر میکس ہو سکتی ہے۔عام طور پر دودھ سوکھنے کی صورت میں پلسٹیلا زیادہ مفید ہے لیکن یہ صرف ایسی عورتوں کے کام آتی ہے جن کی علامات پلسٹیلا کی ہوں۔ورنہ دودھ جاری کرنے کی اور بھی دوائیں ہیں۔مثلاً Aconite ایگنس کاسٹس Agnus Castus ایکونائٹ ایسا فوٹیڈا Asafoetida برائیونیا کلیریا کارب Calcarea Carbonica کاسٹیکم کیمومیلا Bryonia Causticum Chamomilla ایک ڈیفلور بیٹم Lac-Defloratum فاسفورک ایسڈ Phosphoric Acid فائٹولا کا سیکیل ارٹیکا Secale Urtica سليشيا Phytolacca Silicea ایگیر میکس میں ایسکولس کی طرح دردوں کا رجحان اور دباؤ نیچے کی طرف ہوتا ہے لیکن در دیں ٹھہری ہوئی یا ست رو (Dull) نہیں ہوتیں کیونکہ اعصاب میں ایسی حرکت پائی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں درد کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف لپکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ایسی صورت میں ایگیر میکس زیادہ مفید ہے۔ایگیر یکس کے مریض کے پیٹ میں بہت ہوا بنتی ہے۔انتڑیوں کی طبعی حرکت میں