ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 30

ایگیریکس 30 اگر کسی بچے میں یہ سب علامتیں موجود ہوں لیکن آنکھیں دائیں بائیں متحرک رہنے کی خاص علامت نہ بھی ہو تو ایگیر سیکس ضرور دینی چاہئے۔بعض بچوں میں شروع سے ہی ذہنی کمزوری پائی جاتی ہے۔صبح کے وقت اس کیفیت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور انہیں کوئی نئی بات بتائی جائے تو سمجھتے نہیں۔ست اور بے شعور سے لگتے ہیں، بے حس ہو جاتے ہیں اور تھکن محسوس کرتے ہیں۔لیکن جوں جوں دن گزرتا ہے تکلیف کم ہونے لگتی ہے۔شام کے وقت یا رات کے پہلے حصہ میں بالکل ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ہر بات سمجھنے لگتے ہیں اور ہشاش بشاش نظر آتے ہیں، ایسے بچوں کو ایسکولس دیں۔یہ بیماریاں اگر چہ ایگیر یکس میں بھی ملتی ہیں لیکن بیماری کے گھٹنے بڑھنے کے مخصوص اوقات ایسکولس سے ایکیر سیکس کو ممتاز کر دیتے ہیں۔ایگیریکس میں اعصابی کمزوری سے بسا اوقات بہرہ پن پیدا ہو جاتا ہے۔ٹھنڈی ہوا لگنے سے کانوں میں درد، سرخی اور جلن کا احساس ہوتا ہے ،سردی کی وجہ سے پاؤں میں بھی سوزش اور خارش ہو جاتی ہے اور وہ سرخ ہو جاتے ہیں۔بعض اوقات سخت سردی کے موسم میں باہر سے گرم کمرے میں داخل ہونے سے ہاتھ پاؤں میں گہری کھجلی ہونے لگتی ہے اور سرخی اور ورم نمایاں ہوتے ہیں اس تکلیف کو Chillblain کہتے ہیں۔ہر وہ بیماری جس میں خون کا اجتماع کسی خاص عضو کی طرف ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں تناؤ، بے چینی ، سرخی اور درد پیدا کرنے والی خارش ہو اس میں ایکیریکس بہت مفید ہے۔بعض قسم کی الرجیوں میں بھی ایسی علامتیں پیدا ہو جاتی ہیں مثلاً ملیریا کے علاج کے نتیجہ میں ہاتھ پاؤں میں سوزش، سرخی ، بے چینی اور سخت تکلیف دہ خارش ہو اور مریض میں ایگیریکس کی دوسری علامتیں بھی موجود ہوں تو یہ دوا تیر بہدف ثابت ہوتی ہے اور الرجی کو دور کرنے والی کسی اور دوا کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ایک دوخوراکوں سے ہی اللہ کے فضل سے تکلیف دور ہو جاتی ہے۔کبھی اس کی بجائے فاسفورس بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔بعض بچوں کو بولنے میں دقت پیش آتی ہے۔بہت کوشش کر کے بولنا پڑتا ہے۔بار بار بات کو دہراتے ہیں اور ا سکتے ہیں۔اس بیماری کا اصل تعلق خوف سے ہوتا ہے