ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 615
نیٹرم کارب 615 نظر دهند لی محسوس ہوتی ہے۔آنکھوں میں سوئیاں چھتی ہیں اور جلن ہوتی ہے۔کانوں میں تیز چھنے والا درد ہوتا ہے۔منہ پر بھورے تل، پیلے دھبے اور کیل بن جاتے ہیں۔اوپر کا ہونٹ سو جا ہوا محسوس ہوتا ہے۔چہرے کا رنگ زرد ہوتا ہے، آنکھوں کے گرد نیلے حلقے پڑ جاتے ہیں اور پپوٹے متورم ہو جاتے ہیں۔نیٹرم کا رب کے مریض کا معدہ بہت حساس ہوتا ہے اور چھونے سے متورم محسوس ہوتا ہے۔ٹھنڈا پانی پینے سے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔صبح پانچ بجے بھوک محسوس ہوتی ہے۔نظام ہضم بہت کمزور پڑ جاتا ہے۔کھانا کھانے کے بعد اداسی کا دورہ پڑتا ہے۔منہ کا ذائقہ کڑ وامحسوس ہوتا ہے۔دودھ پینے سے اسہال شروع ہو جاتے ہیں اور یکا یک حاجت محسوس ہوتی ہے۔نیٹرم کا رب کی کھانسی خشک ہوتی ہے جو گرم کمرے میں داخل ہونے سے بڑھ جاتی ہے اور سینے میں بائیں جانب سردی کے احساس کے ساتھ بھی کھانسی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔رات کو بائیں جانب لیٹنے سے اور سیڑھیاں چڑھنے سے دل کی دھڑکن میں اضافہ ہوتا ہے۔مریض صبح بہت جلد اٹھ جاتا ہے اور صبح پانچ بجے ہی اس کی تکلیفیں زیادہ ہوتی ہیں۔صبح کے وقت پسینہ بھی بہت آتا ہے۔پاؤں کے تلووں میں جلن محسوس ہوتی ہے۔دافع اثر دوائیں: کیمفر۔آرسنک طاقت: 30 سے 200 تک البتہ بورک نے صرف 6 تک میں استعمال کا ذکر کیا ہے