ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 609
میوریٹک ایسڈ 609 میں بڑھ جاتی ہیں۔آدھی رات سے ذرا پہلے بیماری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔بائیں طرف لیٹنے سے آرام محسوس ہوتا ہے۔سر درد پیچھے گدی سے شروع ہوتا ہے اور نظر دھندلا جاتی ہے۔بعض دفعہ نظر آدھی رہ جاتی ہے۔اوپر کا آدھایا نیچے کا آدھا حصہ نظر نہیں آتا یا دائیں کا نصف یا بائیں کا نصف نظر نہیں آتا۔مؤخر الذکر بیماری میں میوریٹک ایسڈ بہت مفید ہے۔اگر ایک طرف کی نظر میں تھر تھر اہٹ پیدا ہو جائے تو اس میں رسٹاکس کام آتی ہے اور کئی خطرناک بیماریوں سے بچالیتی ہے۔میوریٹک ایسڈ کی ایک علامت یہ ہے کہ بچہ حاجت کے لئے جائے تو ساتھ آنت کا ایک حصہ باہر آجاتا ہے۔منہ میں آبلے اور زخم بنتے ہیں اور زبان کٹ جاتی ہے۔ایسی صورت میں گہرے علاج کی ضرورت پیش آتی ہے۔جس سے صرف منہ ہی نہیں بلکہ اصل بخار اور اس کے تمام بداثرات کو دور کیا جا سکے۔میور بیٹک ایسڈ میں بعض دفعہ زبان کا فالج بھی ہو جاتا ہے۔گلا ٹھیک ہوتا ہے لیکن زبان کام نہیں کرتی۔ایسے فالج میں میوریٹک ایسڈ بہت مفید ہے۔اس میں زبان عمو م خشک رہتی ہے۔میوریٹک ایسڈ میں باوجود اس کے کہ جلد حساس ہوتی ہے، اندرونی طور پر فالج کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔اس قسم کے تضادات دوا کو پہچاننے میں مدددیتے ہیں۔جسم بے جان محسوس ہوتا ہے مگر جلد کے اوپر ہلکے سے چھونے سے بھی جھر جھری آجاتی ہے۔ایگیر یکس سٹیفی سیگر یا اور اوگزیلک ایسڈ میں بھی احساس کی تیزی پائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ پکرک ایسڈ بھی بہت حساس دوا ہے۔اگر ان دواؤں میں دباؤ مضبوط ہوتو قابل برداشت ہوتا ہے لیکن ہلکا ہاتھ برداشت کرنا مریض کے لئے مشکل ہوتا ہے اور وہ ہاتھ جھٹک دیتا ہے۔میوریٹک ایسڈ میں بازو اور ٹانگیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں اور ان میں بوجھل پن محسوس ہوتا ہے۔اکثر اخراجات غیر اختیاری ہوتے ہیں نبض تیز اور کمزور ہوتی ہے۔اینٹی ڈوٹ : برائیونیا طاقت: عموماً 30 تک