ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 27
27 ایتھوز اسائی پیم ایتھوزا کی علامات میں سے ہے۔چہرے پر سرخ نشان ظاہر ہو جاتے ہیں، جبڑے کی ہڈیوں میں درد اور کھچاؤ محسوس ہوتا ہے۔منہ خشک اور زبان لمبی محسوس ہوتی ہے۔گلے میں جلن اور آبلے نمودار ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے نگلنے میں دقت ہوتی ہے۔کبھی سانس میں اتنی تنگی اور گھٹن ہوتی ہے کہ مریض بول نہیں سکتا۔سینہ میں بھی جکڑ اؤ کا احساس ہوتا ہے۔ایتھوزا عورتوں کی تکلیفوں کے لئے بھی اچھی دوا ہے، حیض کے دوران پانی کی طرح پتلا خون جاری ہوتا ہے، سینے کے غدود پھول جاتے ہیں اور ان میں شدید درد ہوتا ہے۔ایسی عورتیں جن میں ایتھوزا کی کچھ علامات پائی جائیں، رحم کی تکلیفیں اور انتڑیوں کی طبعی حرکت میں کمزوری ہو، بغیر متلی کے کھانا الٹنے کا رجحان ہو ایتھوزا دینے سے آرام پاتی ہیں۔ایتھوزا کی علامات صبح تین چار بجے بڑھتی ہیں، ٹھنڈے پانی اور بستر کی گرمی سے بھی بیماریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔دماغی علامات کے سوا کھلی ہوا میں دیگر تکلیفوں میں کمی آ جاتی ہے۔یہ دوا بچوں کے دانت نکلنے کے زمانے میں اسہال لگ جانے کی بہترین دواؤں میں سے ہے۔ایتھوزا میں ہاتھ پاؤں کے سونے اور تشیخی دوروں کی علامت بھی ملتی ہے۔کہنی کے جوڑوں میں شیخ ہوتا ہے۔بازوؤں میں سن ہونے کا احساس، انگلیاں اور انگوٹھے اندر کی طرف مڑ جاتے ہیں۔مرکی میں بھی یہ دوا مفید ہے۔اعضاء سرد ہوتے ہیں اور جسم میں اینٹھن ہوتی ہے اور منہ سے جھاگ نکلتی ہے۔بچہ سرنہیں سنبھال سکتا۔دودھ پیتے ہی قے کر دیتا ہے اور قے کے فوراً بعد دودھ طلب کرتا ہے۔ایتھوزا کے بارے میں بعض ہومیو پیتھک معالجین کا کہنا ہے کہ وہ طلباء جو کمرہ امتحان میں گھبرا جائیں اور پر چھصل نہ کرسکیں ان کے لئے بہت مفید ہے۔200 طاقت میں ایک خوراک صبح امتحان کے لئے جانے سے پہلے استعمال کی جائے تو غیر معمولی فائدہ پہنچاتی ہے۔مددگاردوا کلکیریا کارب طاقت : 30 سے 200 تک