ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 26
ایتھوز اسائی پیم 26 چھاتی اور گردن۔لیکن ایتھوزا میں سارا جسم بیک وقت سوکھتا ہے۔ایتھوزا کی ایک اور اہم علامت یہ ہے کہ گرمی سے بچے کی بیماری سرکی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ایسا بچہ جس کے دماغ میں کچھ خلل ہو اور گرم موسم میں دودھ پیتے ہی قے کر دینے کی علامت نمایاں ہو اس کی دوا ایتھوزا ہی ہے۔یہ پیٹ کی بیماری اور دماغی خلل دونوں بیماریوں کو ٹھیک کرے گی۔اگر روائتی طریقہ علاج سے ایسے بچہ کی معدہ کی علامتیں اور دودھ الٹنے کا رجحان ٹھیک کیا جائے تو وہ بچہ ذہنی توازن کھو دیتا ہے۔ایسی صورت میں ایتھوزا کو نہ بھولیں ورنہ ایسا بچہ مستقل دیوانہ ہو جائے گا۔ایتھوزا کی علامتیں رکھنے والے بچے کو میں نے کبھی ایتھوزا کے سوا کسی اور دوا سے شفا پاتے نہیں دیکھا۔پس لازم ہے کہ جب ایتھوزا کی علامات ہوں تو ایتھوزا ہی دی جائے۔ایتھوزا میں بیماریاں بہت شدت سے حملہ کرتی ہیں اور ہر تکلیف میں شدت نمایاں ہوتی ہے جس کے بعد ذہنی اور جسمانی کمزوری اور نیند کا غلبہ ہونا شروع ہو جاتا ہے غشی طاری ہو جاتی ہے، مریض مختلف قسم کے تو ہمات کا شکار رہتا ہے، بلیاں، کتے اور چوہے نظر آنے لگتے ہیں، ذہنی یکسوئی نہیں رہتی ، بہت غمگین اور بے چین ہوتا ہے،سرشکنجہ میں کسا ہوا محسوس کرتا ہے، سر کے پچھلے حصہ میں درد جو گردن ، کندھوں اور کمر میں پھیل جاتا ہے۔دبانے اور لیٹنے سے آرام محسوس ہوتا ہے۔نیز اجابت اور ہوا کے اخراج کے بعد سر کی علامات کو آرام ملتا ہے۔بال کھنچے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، غنودگی کے ساتھ چکر آتے ہیں اور دھڑ کن محسوس ہوتی ہے۔جب چکر ٹھیک ہو جائیں تو سرگرم ہونے لگتا ہے۔روشنی سے زود حسی پائی جاتی ہے، پیوٹوں کے کنارے سوج جاتے ہیں۔سوتے ہوئے آنکھ کی پتلیاں ادھر ادھر حرکت کرتی ہیں۔آنکھیں نیچے کی طرف کھینچ جاتی ہیں اور چیزیں اصل حجم سے بڑی دکھائی دینے لگتی ہیں۔کانوں میں درد ہوتا ہے اور گرم پانی نکلنے کا احساس ہوتا ہے، پھنکارنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ناک گاڑھی رطوبت کی وجہ سے بند ہو جاتا ہے، ناک کی نوک پر چھیلنے کا احساس اور چھینکنے کی بے سود کوشش