ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 549 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 549

549 خوف آئے تو آرسنک یا ارجنٹم نائٹریکم مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔عام طور پر ایسے نفسیاتی اور دماغی امراض میں لیکیس بہت اچھا کام کرتی ہے۔اسے کم از کم 200 کی طاقت میں دینا چاہئے۔تاہم میرا تجربہ ہے کہ 1000 طاقت میں زیادہ بہتر نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔میں نے کئی بار لا کھ طاقت میں بھی استعمال کی ہے اور وہ واقعتا مفید ثابت ہوئی ہے۔سردیوں کے موسم میں گلے کی خرابی لیکیس کی خاص علامت ہے۔سورا ئینم میں بھی سردیوں کے موسم میں داخل ہوتے ہوتے بہت نزلہ ہو جاتا ہے۔سورا ئینم گلے کے لئے بھی اچھی دوا ہے لیکن اس میں نزلہ خصوصیت سے نمایاں ہے اور ایک خاص نشان یہ ہے کہ جب بھی نزلہ بند ہو گا سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔یعنی سر در داور نزلہ آپس میں ادلتے بدلتے رہتے ہیں لیکن لیکیس میں ایسا نہیں ہوتا۔لیکیس کی ایک اور نمایاں علامت جلد کی زود حسی ہے۔یہ زود حسی کبھی اتنی بڑھی جاتی ہے کہ مریض جسم پر ہلکا سا کپڑا بھی برداشت نہیں کر سکتا۔کسی خاص حصہ پر تکلیف اور وہاں لمس کے احساس سے شدید بے چینی اور درد کا بڑھ جانا نیکلیس کی خاص علامت ہے۔کالی کا رب میں بھی یہ علامت پائی جاتی ہے۔مضبوط دباؤ آرام دیتا ہے لیکن ہلکی لمس تکلیف دہ ہوتی ہے۔لمس سے تکلیف کا نمایاں احساس ایک کنائینم میں بھی بہت شدت سے پایا جاتا ہے۔اگر انگلیوں میں معمولی سی بھی تکلیف ہو تو مریض انگلیاں کھول کر رکھتا ہے کیونکہ ذرا بھی انگلیاں بند ہوں تو تکلیف سے چینیں نکل جاتی ہیں۔اگر بغل کے نیچے زودحسی ہو تو مریض ہر وقت بغل کھلی رکھے گا۔لیکیسس کا یرقان سے بھی گہرا تعلق ہے۔میں نے میرقان کے لئے ایک عمومی نسخہ بنایا ہوا ہے جس میں سلفر، برائیو نیا اور کارڈس میریانس (Cardus Merianus) شامل ہیں۔یہ نسخہ خدا کے فضل سے یرقان کے مریضوں میں بہت کامیاب ہے۔اگر فائدہ نہ ہو تو دوسری دوائیں ڈھونڈنی پڑتی ہیں۔مثلاً چیلی ڈونیم ، لیکیس، بر برس اور لائیکوپوڈیم وغیرہ۔یہ سب جگر کی تکلیفوں میں بہت مفید دوائیں ہیں۔فاسفورس کا بھی جگر سے تعلق ہے اور عموماً جگر کے کینسر میں مفید ثابت ہوتی ہے لیکن اسے بہت احتیاط سے استعمال کرنا