ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 533
لیک ڈیف 533 وہ مریض جنہیں دودھ سے نفرت ہو یا ان کی تکلیفیں دودھ پینے سے بڑھ جائیں، متلی، قے ، سر درد، ڈکار، معدہ میں ہوا وغیرہ پیدا ہونے لگے تو اس قسم کی سب علامتوں میں لیک ڈیف کی ایک لاکھ میں ایک خوراک ہی کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔بعض دفعہ اسے کچھ عرصہ بعد دو ہرانا پڑتا ہے۔اگر دو خوراکوں کے بعد بھی کوئی فرق نہ پڑے تو پھر اس دوا کے پیچھے نہیں پڑنا چاہئے۔اگر اس نے فائدہ دینا ہو تو فور ادیتی ہے ورنہ بالکل اثر نہیں کرتی۔پہلی خوراک سے افاقہ ہو لیکن علامتیں جلد واپس آجائیں تو ایک ہفتہ کے بعد دوسری خوراک دے دیں۔لیک ڈیف کی سب علامتوں میں ملیریا کے پرانے اثرات بھی ملتے ہیں مثلا خون کی کمی ، سوجن ، ذیا بیطس کی علامتیں ، دل کی کمزوری وغیرہ وغیرہ۔ان سب علامتوں کو الگ الگ یاد رکھنے کی بجائے صرف یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اس دوا کا مزاج سخت ٹھنڈا ہے۔جلد سردی کی وجہ سے سخت زود حس ہو جاتی ہے اگر یہ علامتیں اکٹھی ہو جائیں اور پھر دل کی تکلیف ہو یا ملیر یا اور ذیا بیطیس کے آثار ظاہر ہوں تو ان میں اس بات کا بھاری امکان ہوتا ہے کہ یہ ان سب بیماریوں میں بھی مفید ثابت ہوگی۔دل کی بیماریوں میں لیک ڈیف کے استعمال کا مجھے ذاتی تجربہ نہیں ہے اس لئے میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ایک ڈیف اونچی طاقت میں مفید رہے گی یا چھوٹی طاقت میں۔تاہم چونکہ یہ دل کا معاملہ ہے اس لئے احتیاطاً چھوٹی طاقتوں سے علاج شروع کرنا چاہئے۔اگر فائدہ ہو تو دہرائیں اور پھر آہستہ آہستہ دوا کی طاقت بھی بڑھاتے جائیں۔دل کو نسبتاً آہستہ آہستہ آرام آتا ہے اس لئے چھوٹی طاقتیں ہی محفوظ ہیں۔ایک ڈیف کے مریض کی یادداشت بھی کمزور ہو جاتی ہے اور وہ دماغی کام سے بوجھ محسوس کرتا ہے۔یہ دو دل اور جگر کی چربی کی بیماری (Fatty Degeneration) میں بھی بہت مفید ہے۔عموماً یہ بیماری شراب کے عادی لوگوں میں پائی جاتی ہے۔لیکن زیادہ چر بی کھانے والوں کو بھی ہو جاتی ہے۔جگر میں چربی کے جالے بننے لگتے ہیں جو عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتے جاتے ہیں۔جگر کے جس حصہ میں بھی یہ بیماری ہو وہ حصہ عملاً